1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا صنعاء میں اتحادی فورسز جنگی جرائم کی مرتکب ہوئیں؟

یمن میں بمباری کرنے والا فوجی اتحاد جس کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے، نے اتوار کو یمن میں کلسٹر گولے بارود برسانے کے الزام کو ایک مرتبہ پھر رد کر دیا ہے۔

اس اتحاد کی طرف سے یہ تردید اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے اُس بیان کے سامنے آنے کے بعد کی گئی ہے جس میں انہوں نے کلسٹر بم اور بارودی مواد کے استعمال کو ممکنہ طور پر جنگی جرائم قرار دیا تھا۔

سعودی قیادت والے عسکری اتحاد کے ترجمان بریگیڈئر جنرل احمد الاسیری نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا اتحاد یمنی دارالحکومت صنعاء میں کلسٹر بموں کے استعمال کو رد کرتا ہے۔ احمد الاسیری نے یہ بات امریکا میں قائم ہیومن رائٹس واچ HRW کی اُس رپورٹ کے جواب میں کہی جس میں صنعاء کے مقامی رہائشی باشندوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 6 جنوری کو ہونے والے حملے میں مسلسل فضا سے کلسٹر بم برسائے گئے تھے۔

الاسیری کا کہنا ہے کہ اُن کے اتحاد نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ماضی میں وہ یمنی شیعہ باغیوں کی گاڑیوں پر CBU-105 طرز کے کلسٹر بموں سے حملہ کر چُکا ہے۔ تاہم اس عسکری اتحاد کے ترجمان کے بقول، ’’اب باغیوں کے پاس گاڑیاں باقی نہیں بچی ہیں، اس لیے اتحاد کو کلسٹر بم استعمال کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی ہے۔‘‘ انہوں نے ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ کو ’نہایت کمزور‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا، ’’کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا ہے۔‘‘

Streubomben

کلسٹر بم گرنے کےبعد اکثر فوری طور پر پھٹتے نہیں ہیں بلکہ باردی سرنگیں بنا دیتے ہیں

ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ اس فوجی اتحاد کے پاس وہ گولہ بارود موجود ہی نہیں تھا جن کا ذکر ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ صنعاء میں حوثی باغیوں کے خلاف ہونے والے 90 فیصد آپریشن اسکڈ میزائل لانچرز کے خلاف کیے گئے ہیں۔ احمد الاسیری کے بقول، ’’آپ اسکڈ لانچرز کے خلاف کلسٹر بم استعمال نہیں کر سکتے‘‘۔

یمن میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر دنیا بھر میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ سعودی قیادت والا عسکری اتحاد گزشتہ برس مارچ کے مہینے سے ایران نوازحوثی شیعہ باغیوں اوراُن کے اتحادیوں کو پسپا کرنے کے لیے یمنی فورسز کا ساتھ دے رہا ہے۔

Opfer von Streubomben

کلسٹر بم انسانوں کی ہلاکت کے علاوہ انہیں معذور بنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں

کلسٹر بموں میں ایسے متعدد ذیلی دھماکا خیز مواد موجود ہوتا ہے، جو کبھی کبھی فوری طور سے نہیں پھٹتا بلکہ بارودی سُرنگ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ نہ پھٹنے والا بارودی مواد بعد ازان ہلاکتوں اور معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔

ان ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی 2008 ء میں ایک معاہدے کے تحت عائد کر دی گئی تھی جسے 116 ممالک نے منظور کیا تھا۔ تاہم ان ممالک میں سعودی عرب، امریکا اور اُس کے اتحادی شامل نہیں ہیں۔

گزشتہ جمعے کو اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے کہا تھا، ’’انہیں صنعاء میں کلسٹر بموں کے استعمال کے بارے میں تشویشناک رپوٹیں موصول ہوئی ہیں‘‘۔

DW.COM