1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا صرف چین ہی قصور وار ہے؟

تبت اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور جہاں تک انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر ہے تو چین اور میانمار کی صورتحال میں کوئی خاص فرق دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن میانمار کی جانب کوئی انگلی نہیں اٹھا رہا ۔

default

میانمار میں گزشتہ برس فوجی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان گرفتار شدہ میں سے 40 کے خلاف عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان میں سات بدھ راہب بھی ہیں۔ یہ افراد کتنے عرصے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہیں گے اس بات کا کسی کو بھی علم نہیں ہے۔ ان میں سے کچھ کا جرم صرف اتنا ہے کہ انہوں نے حکومت خلاف مظاہروں کے دوران مظاہریں کو پانی فراہم کیا تھا۔میانمار کی فوجی حکومت اب بھی بدھ راہبوں کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔ میانمار کے ایک راہب کے بقول فوجی حکومت سے کسی اچھے کام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پورے ملک کو مل کو اس آمر حکومت کے خلاف قدم اٹھانے ہونگے اور جب راہبوں نے یہ کوشش کی تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اور کئی راہب اس اس تشدد کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے۔ اب عوام کہ اس بارے میں سوچنا ہو گا کہ کس طرح سے اپنا حق حاصل کیا جائے۔

انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب برائے میانمار Paulo Pinheiro کو گزشتہ برس نومبر میں ایک مرتبہ پھر میانمار میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اجازت ان کو چار برسوں کے بعد دی گئی ہے۔ Pinheiro کا کام یہ پتا چلانا تھا کہ گزشتہ برس عوامی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے دوران کتنے افراد ہلاک ہوئے اور کتنے لاپتہ ۔ Pinherio کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے ، عالمی برادری کو میانمار کی فوجی حکومت پر دباﺅ ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو میانمار کے ان مظلوم افراد کو کوششوں کو سراہنا چاہیے کہ جو انہوں نے فوجی حکومت کے خلاف اور انسانی حقوق کی بحالی کے لئے کیں۔ اور اگر ہم میانمار کی صورتحال میں بہتری چاہتے ہیں تو اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک کو ایک آواز ہو کر کام کرنا پڑے گا۔

بہت سے افراد کا خیال ہے کہ اس سال اولمپک کھیلوں کے انعقاد کے وقت میانمار میں مزید مظاہرے کئے جائیں گے۔ اگلے ماہ مئی میں میانمار کی فوجی حکومت نے ملک میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے کہ جس میں عوام ملک میں نئے دستور کی منظوری دے گی۔ اپوزیشن جماعتیں عوام سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کریں کیونکہ یہ سب کچھ فوجی حکومت اپنی طاقت میں مزید اضافہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔