1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا شمالی کوریا 'دہشت گرد ملکوں' کی فہرست سے خارج ہوگا؟

امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام ترک کرنے کی صورت میں اُس کے خلاف تجارتی پابندیاں ختم کر دی جائیں گی اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے اُس کا نام خارج کر دیا جائےگا۔

default

ایک جنوبی کوریائی باشندہ ٹیلی وژن سکرین پر پر شمالی کوریا کے ایٹمی ریکٹر کے مقام کو دیکھ رہا ہے

شمالی کوریا نے اپنے واحد ایٹمی بجلی گھر کے کولنگ ٹاور کو ایک دھماکے کے ذریعے مِسمار کر دیا ہے۔ اِس اقدام کا مقصد علامتی طور پر اِس بات پر زور دینا ہے کہ یہ کمیونسٹ ملک اپنا ایٹمی پروگرام ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ ژانگ سے ایک سو کلومیٹر شمال کی طرف واقع ایٹمی ری ایکٹر ژونگ بیون کو سن دو ہزار سات کے وَسط میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب وہاں کے ٹیلی وژن پر دکھایا گیا کہ کیسے اِس ری ایکٹر کے پچیس میٹر بلند کولنگ ٹاور کو ایک دھماکے کی مدد سے زمیں بوس کر دیا گیا۔ اِس طرح اِس کمیونسٹ ملک نے ژَونگ بیون ایٹمی ری ایکٹر کو بند کرنے کے اُس عمل کو آگے بڑھایا ہے، جس کا آغاز بین الاقوامی سمجھوتوں کی روشنی میں گذشتہ سال نومبر ہی میں کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کو پیانگ ژانگ حکومت نے کئی ماہ کی تاخیر کے بعد اپنے ایٹمی پروگرام کے بارے میں جامع تفصیلات چین کے حوالے کر دی تھیں۔ امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش نے اِس اقدام پر محتاط انداز میں اطمینان کا اظہار کیا۔

George W. Bush äußert sich zum Nord-Korea Konflikt

ایٹمی پروگرام کے حوالے سے شمالی کوریا کے حالیہ اقدام کو امریکی صدر جارج بُش نےکافی سراہا ہے

بُش نے کہا کہ وہ ایک فرمان جاری کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شمالی کوریا پر دشمن ممالک کے ساتھ تجارت پر پابندی کے ضوابط کا اطلاق ختم ہو جائے گا۔ مزید برآں وہ کانگریس کو اِس امر سے بھی آگاہ کر رہے ہیں کہ پنتالیس روز کے اندر اندر شمالی کوریا کا نام دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکال دیا جائے۔

تاہم بُش نے واضح کیا کہ امریکہ بدستور شمالی کوریا پر کڑی نظر رکھے گا اور اِس کمیونسٹ ریاست پر اُتنا ہی اعتبار کیا جائے گا، جس حد تک وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ یہ ایک عمل کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔

بُش کے مطابق امریکہ پیانگ ژانگ قیادت کے بارے میں کسی فریب کا شکار نہیں ہے۔ اُسے اِس ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، یورینیم افزودہ کرنے کی سرگرمیوں، ایٹمی تجربات، ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور میزائل پروگراموں کے ساتھ ساتھ اِس کی طرف سے جنوبی کوریا اور اپنے ہمسایہ ممالک کو دھمکائے جانے پر بدستور گہری تشویش ہے۔

اُدھر جاپان کے شہر کیوٹو میں سات امیر صنعتی ملکوں اور روس کے وُزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ ایٹمی تنازعے کا حل اِسی طرح کے دیگر تنازعات کے سلسلے میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔