1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا شاہد خاقان کا دورہٴ سعودی عرب ریاض کو منانے کی کوشش ہے؟

پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہٴ سعودی عرب کے حوالے سے ملک میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ کئی ناقدین اس دورے کو ریاض حکومت کومنانے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم ہاوس کی طرف سے ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر سعودی قیادت سے بات چیت کریں گے۔ لیکن کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سعودی حکمراں نواز شریف کی حکومت سے یمن کے مسئلے پر تعاون نہ کرنے پر سخت برہم تھی۔ شاہد خاقان کا یہ دورہ سعودی حکمرانوں کو منانے کی ایک کوشش ہے۔

سعودی عرب جانے والے پاکستانی ملازمین کی تعداد میں زبردست کمی

قطر سعودی تنازعہ پاکستان کی معیشت مشکلات سے دوچار

کیا نئے سعودی ولی عہد کی پاکستان پالیسی زیادہ سخت ہو گی؟

سعودی قطری کشیدگی: پاکستان کے لیے صورت حال مشکل ہوگئی

کئی مبصرین نے یہاں اس بات پر بھی توجہ دی کہ وزیرِ اعظم اور ان کے وفد ، جس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اوروزیرِ خارجہ خواجہ آصف بھی شامل ہیں، کا استقبال مکے کے ڈپٹی گورنرنے کیا۔کسی اعلیٰ سعودی عہدیدار نے پاکستانی وفد کا استقبال نہیں کیا۔
نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکٹر بکر نجم الدین کے خیال میں نواز شریف کے دور میں پاک سعودی تعلقات میں تلخی آگئی تھی اور ان کے خیال میں شاہد خاقان اس تلخی کو ختم کرنے کے لئے گئے ہیں۔ ڈوئچے ویلے کو اس دورہ پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب نواز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا تو جس طرح انہیں نظرانداز کیا گیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی نواز شریف سے خوش نہیں تھے، نواز کے خیال میں اسلام آباد کے تعلقات سعودی عرب سے اتنے ہی اہم ہیں جتنے کے ایران کے ساتھ، اس لئے انہوں نے ایک غیر جانبدارنہ لائن لی، جو سعودیوں کو پسند نہیں آئی۔‘‘

Mohammed bin Salman (picture alliance/AP Photo/H. Ammar)

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان


سیاسی مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس صورت حال میں تبدیلی ممکن ہے۔ معروف تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں آنے والے مہینوں میں ایران مخالف سرگرمیاں خطے میں بڑھ سکتی ہیں۔ اُن کے مطابق،’’ایرانی صدر نے ایک بار کہا تھا کہ جب تہران و اسلام آباد قریب آنے لگتے ہیں تو خفیہ ہاتھ اس کو خراب کرنے کے لئے سرگرم ہوجاتا ہے۔

احسن رضا کا کہنا ہے کہ پاک ایران پائپ لائن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی ہونے کے علاوہ ایران و پاکستان سرحد کے قریب دہشت گردانہ حملوں کا امکان ہے۔ احسن رضا کہتے ہیں،’’کچھ قوتوں نے پہلے بھی ایران کے خلاف بہت سے اقدامات اٹھائیں ہیں اور اب وہ ریاض کو خوش کرنے کے لئے مذید اقدامات اٹھائیں گے۔‘‘
تجزیہ کار رضا کے خیال میں، ’’ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب کے بعد شاہی خاندان بڑا پراعتماد ہوگیا ہے اور اس نے اسی لئے قطر کو بھی سبق سکھانے کی کوشش کی ہے، اس صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان مجبور ہے کہ وہ سعودی حکمرانوں کو خوش کرے کیونکہ ٹرمپ کی افغان پالیسی بھی ہمارے خلاف ہے۔ لہذا کچھ قوتوں کے خیال میں ایسے موقع پر سعودی حکمرانوں کو خوش کرنا ضروری ہے۔‘‘

Saudi Arabien Trump und König Salman bin Abdulaziz Al Saud (picture alliance/AA/B. Algaloud)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان


وفاقی حکومت کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ’’وفاقی دارالحکومت میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ ٹرمپ کی سخت پالیسی میں سعودی عرب کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ ریاض اور واشنگٹن بہت قریب ہیں ۔ اب وزیرِ اعظم سعودی عرب اس لئے گئے ہیں کہ وہ پرانی غلطیوں پر معافی مانگیں اور ریاض سے کہیں کہ وہ امریکہ کو پاکستان پابندیاں لگانے سے روکے ۔‘‘
معروف تجزیہ نگار صابر کربلائی کے خیال میں پاکستان سعودی عرب کو ناراض کرنا نہیں چاہتا۔ اُن کا کہنا ہے،’’ہمارے لاکھوں کارکنان وہاں کام کرتے ہیں، زرِ مبادلے کا ایک بڑا حصہ وہاں سے آتا ہے، تو ایک ایسے وقت میں جب ہماری معاشی حالت بہت کمزور ہے ، ہم سعودی عرب کو ناراض نہیں کریں گے۔‘‘

DW.COM