1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا سی پیک، پاکستان میں نئے تنازعات کھڑے کر سکتا ہے؟

پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف نے آج اسلام آباد میں دو روزہ سی پیک نمائش و سمٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خطے کے ممالک میں غربت کے خاتمے میں اور پائیدار امن کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔

لیکن چھوٹے صوبوں کے بے شمار اعتراضات کے پیشِ نظر کئی تجزیہ نگار اِس خدشہ کا اظہارکر رہے ہیں کہ یہ پراجیکٹ ملک میں نئے تنازعات کھڑے کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 35 بلین ڈالرکی سرمایہ کاری صرف توانائی کے شعبے میں ہو رہی ہے، جس سے دس ہزار چار سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے گلگت بلتستان، کے پی کے اور بلوچستان سمیت تمام علاقوں کو فائدہ ہوگا۔
لیکن ایسا لگتا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے سیاست دان اور عوام وزیرِ اعظم کے اس دعوے کو نہیں مانتے۔
پختون قوم پرستوں کا خیال ہے کہ یہ پراجیکٹ پاکستان اور چین کے درمیان نہیں بلکہ پنجاب اور چین کے درمیان ہے۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکڑ سید عالم محسود نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے اس مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا، ’’زرداری کے دور میں سی پیک کا راستہ بالکل مختلف تھا جس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے گزر کے یہ قلعہ سیف اللہ سے ہوتا ہوا پنجگور اور پھر گوادر جانا تھا۔ اب جو مغربی راستہ ہے اس میں پختون علاقوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ صرف پچپن کلومیٹر کی ایک سڑک تعمیر ہو گی۔ پنجاب میں سی پیک کی وجہ سے بارہ موٹر ویز بن رہے ہیں جب کہ کے پی کے میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ریلوے کا منصوبہ ہے۔ اگر حکمرانوں نے یہ روش نہ بدلی ، تو ملک میں خون خرابہ ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ بلوچوں، سندھیوں، پختونوں اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو اس شکل میں قابل قبول نہیں۔ ہم اس حوالے سے بھر پور مہم چلارہے ہیں اور اس پراجیکٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف ہم چینی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ بھی کریں گے اور پھر بھی نہ سنی گئی تو ہم کسی بھی حد تک جائیں گے۔‘‘

انہوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف اس پراجیکٹ کے ذریعے پنجاب اور پنجابی سرمایہ داروں کو نواز رہے ہیں، ’’آپ ذرا فہرست اٹھا کر دیکھیں کہ کن سرمایہ دار گروپوں کو تعمیرات اور دوسری نوعیت کے ٹھیکے دیے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں یہ سرنگیں بچھائیں گے۔ کیا انہوں نے وہاں کوئی ماحولیاتی سروے کیا ہے؟ کیا ان سرنگوں سے متاثر ہونے والے افراد کو اتنا ہی معاوضہ دیا جائے گا جتنا پنجاب میں لوگوں کو دیا جارہا ہے۔میں اس معاہدے کو سنٹرل پنجاب اکنامک کوریڈور کہتا ہوں۔‘‘

سی پیک سے گلگت بلتستان، کے پی کے اور بلوچستان سمیت تمام علاقوں کو فائدہ ہوگا، نواز شریف

سی پیک سے گلگت بلتستان، کے پی کے اور بلوچستان سمیت تمام علاقوں کو فائدہ ہوگا، نواز شریف


بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ عطا اللہ مینگل نے کہا، ’’کس نے آپ سے کہا کہ یہ ساری ترقی بلوچستان اور بلوچوں کے لیے ہو رہی ہے۔ کراچی کی بندرگاہ سندھیوں کے لیے ہے اور اب گوادر کی بندرگاہ کو پنجاب استعمال کرے گا۔ بلوچ پہلے ہی اقلیت میں ہیں اور اب پنجاب ان کو مائیکرو اسکوپک اقلیت میں تبدیل کرنے جارہا ہے۔ کرڑوں لوگ بلوچستان میں آکر آباد ہوں گے۔ بلوچوں کا قومی تشخص خطرے میں پڑ جائے گا۔ اگر بلوچوں میں دم ہوگا تو وہ اِس کے خلاف بھر پور مزاحمت کریں گے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ سب سے پہلے بلوچوں کے حقِ حکمرانی کو تسلیم کیا جائے۔ اِس کے بعد ہی ایسے پراجیکٹس کامیاب ہوسکتے ہیں۔ پنجاب کو بلوچوں کا کوئی دکھ نہیں وہ وسائل کے لیے اپنی پیاس بجھانا چاہتا ہے اور چین یہ سب کچھ اپنے مفادات کے لیے کر رہا ہے۔ گوادر میں فائیو اسٹارز ہوٹل بن رہے ہیں لیکن اس سے مقامی بلوچ کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔‘‘
سندھی قوم پرست رہنما ایاز لطیف پلیجو نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سندھ میں لوگوں کو یہ خدشات ہیں کہ اگر چینی سرمایہ کاری کے نتیجے میں مقامی افراد کو روزگار نہیں ملتا اور دوسرے صوبوں سے لا کر یہاں لوگوں کو آبادکیاجاتا ہے تو اس سے اُن کے قومی تشخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح ذوالفقار آباد شہر کے منصوبے سے سندھ کی زرخیز زمین تعمیرات کے شعبے سے وابستہ سرمایہ داروں کو دی جا رہی ہے۔ ٹھٹھہ، بدین اور کراچی سمیت کئی علاقوں کی زمین ان سرمایہ داروں کے پاس چلی جائے گی۔ اس مسئلے پر سندھ کی عوام کے شدید تحفظات ہیں۔ لیکن ابھی تک عملی طور پر کوئی پراجیکٹ نظر نہیں آرہا، جب آئے گا تو عوام کو ردِ عمل بھی سامنے آئے گا۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’چین ہو یا کوئی اور ملک ہو، اگر وہ سرمایہ کاری کے ذریعے مقامی افراد کو روزگار دے گا تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو عوام مزاحمت کریں گے۔‘‘