1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کیا سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے؟

تہران کی خفیہ پولیس سے بچ کر بہت سے مہاجرین جرمنی پہنچ رہے ہیں اور مسیحیت قبول کر رہے ہیں۔ مگر مذہب کی اس تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟

ایک چرچ میں بہت سے لوگ جمع ہیں، مسیحی رضاکار گرم چائے دے رہے ہیں۔ پتھروں کے فرش پر بہت سے ڈبے پڑے ہیں، جن میں مسیحیت کی تعلیم پر مبنی کتابیں عربی اور فارسی زبانوں میں موجود ہیں اور قریب 30 مہاجرین ان کتابوں کا مطالعہ کر رہیں ہیں اور بپتسمے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

 

پروٹیسٹنٹ پادری ان نئے مسیحیوں کو بپتسمہ کے مرحلے سے گزار کر مشرف بہ مسیحت کریں گے۔ ان کے نام اور چرچ کا مقام نہیں بتایا گیا، کیوں کہ انہیں اور مہاجرین کو خوف ہے کہ اس طرح کی زندگیاں خطرے میں آ جائیں گی۔

ایسے میں ایک تناؤ سے بھرپور آواز سنائی دیتی ہے۔ پادری کے پاس ایک بری خبر ہے۔ ’’ہمارے اس گروپ سے کچھ افراد کو ایران واپس بھیجا جا رہا ہے۔‘‘

اس خاموش سے کمرے میں اس اعلان کے بعد وہ لوگوں کو مشورہ دیتے ہیں۔ ’’جج کو بتائیے کہ آپ کا عقیدہ کیا ہے۔ مسیحی کتابیں کرسمس مارکیٹوں میں بانٹیے ورنہ جج کہے گا کہ آپ ایران میں بھی چھپ کر اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔‘‘

مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ سیاسی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کے لیے اپنا جا رہا ہے؟ جب سن 2015ء میں یورپی سرحدیں مہاجرین کے لیے کھلیں، تو صرف شام، افغانستان اور عراق ہی سے مہاجرین یہاں نہیں پہنچے بلکہ ایران اور دیگر ممالک سے بھی سینکڑوں افراد بلقان راستے کا استعمال کرتے ہوئے جرمنی پہنچے۔

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین BAMF کے مطابق رواں برس جنوری سے نومبر تک ایران سے تعلق رکھنے والے قریب 25 ہزار افراد نے جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں ہیں۔ گزشتہ برس اس عرصے میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے ایرانی شہریوں کی تعداد 4454 تھی۔

ایران میں بطور استاد کام کرنے والے 31 سالہ ایلیا بھی تہران سے سفر کرتے ہوئے جرمنی پہنچے ہیں، جب کہ انہوں نے ایک پروٹیسنٹ چرچ کے ذریعے مسیحیت قبول کی۔ سیاسی پناہ کی درخواست میں ان کا موقف تھا کہ ان کے اسکول میں ایک شخص کو ان کے تبدیلی مذہب کا علم ہو چکا ہے اور وہ ایران کی خفیہ پولیس کو بتا سکتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ تاہم اس کی درخواست پر جرمن حکام کا موقف ہے کہ وہ کسی اور ایرانی شہر میں جا کر بھی زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اپنے عقیدے پر تنہائی میں عمل کر سکتے ہیں۔

ایلیا کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسیحیت قبول کرنے کا فیصلہ اس لیا کیا کیوں کہ ان کی نظر میں مسیحیت کسی گناہ کی صورت میں معافی کا راستہ فراہم کرتی ہے۔