1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا سعودی گھریلو ملازماؤں سے جنسی تعلقات جائز ہیں؟

پہلی نظر میں دنیا کے تمام مسلم ممالک میں خواتین کی حیثیت ایک سی نظر آتی ہے لیکن مذہبی یا شرعی لحاظ سے خواتین کے موجودہ تصور کے بارے میں اختلافات ہیں۔ مسئلہ آیات، واقعات اور ان کی تشریح کا ہے۔

ایک فلسطینی مہاجر کے بیٹے محمد صالح المنجد سعودی عرب کے مشہور مذہبی رہنما ہیں۔ وہ پیدا تو شام میں ہوئے لیکن جوانی سے سعودی عرب میں قیام پذیر ہیں اور متعدد زبانوں میں سلفیوں کی دنیا میں مشہور ویب سائٹ "islamqa.info" چلاتے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر لوگ سوال پوچھتے ہیں اور ان کے جواب ’اسلامی تشریح‘ کے مطابق دیے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر اس ویب سائٹ پر ایک سعودی نوجوان لڑکے نے بظاہر ایک مشکل سوال پوچھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ’’سعودی عرب میں رہنے والی ’غلام خواتین‘ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا ان کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا جائز ہے؟ اور جب آدمی شادی شدہ ہو تب بھی؟ سوال کرنے والا ’غلام خاتون‘ کس کو کہہ رہا ہے یہ وضاحت نہیں لکھی لیکن اس کے سوال سے پتہ چل رہا ہے کہ وہ ان خواتین کی بات کر رہا ہے، جو سعودی گھرانوں میں ملازمتیں کر رہی ہیں اور ان کی زیادہ تر تعداد ایشیا سے ہے۔

’’اہل علم کا اجماع‘‘

محمد صالح المنجد کی طرف سے اس سوال کا جواب کچھ یوں دیا گیا ہے، ’’اسلام میں ’غلام خاتون‘ (لونڈی) کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے کی اجازت ہے، چاہے آدمی کی ایک بیوی ہو یا اس سے زیادہ بیویاں یا پھر وہ ابھی کنوارہ ہو۔‘‘ اس کی بنیاد کے طور پر قرآنی آیات، معروف شیوخ کی رائے اور پیغمبر اسلام کی زندگی کے واقعات کے حوالے دیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اس بحث کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے کہ ’’تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے اور کسی کو بھی اسے ممنوع کہنے یا اس کی ممانعت کی اجازت نہیں ہے۔ جو بھی اس کی مخالفت کرتا ہے وہ گنہگار ہے اور وہ علماء کے اجماع کے خلاف ہے۔‘‘

گھریلو ملازماؤں کی جنسی دستیابی سے متعلق یہ فتویٰ پہلا نہیں ہے۔ سعودی علماء روزانہ کی بنیادوں پر خواتین سے متعلق فتوے جاری کر رہے ہیں۔ لندن اسکول آف اکنامکس میں نسلی علوم کی ماہر خاتون استاد مداوی الرشید کہتی ہیں کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں سعودی علماء کی طرف سے شادی سے لے کر ذاتی نگہداشت تک کوئی تیس ہزار سے زائد فتوے جاری کیے گئے ہیں۔

پردہ ایک علامت‘

سعودی عرب کے قدامت پسند وہابی علماء کے مطابق اسلام میں خواتین کی موجودہ حیثیت کے بارے میں کسی بحث کی گنجائش نہیں ہے لیکن ان کی مخالف سیکولر یا اسلامی تحریک نسواں سے تعلق رکھنے والی وہ خواتین ہیں، جو ان تشریحات سے اختلاف رکھتی ہیں۔

تاہم یہ دونوں گروپ ایک چیز پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ اسلام میں خواتین کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تیونس میں مذہبی شناخت پر تحقیق کرنے والی اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی صوفی بسیس کہتی ہیں کہ اس شناخت کا انحصار نشانیوں اور علامات پر ہے اور مسلم خواتین کے لباس میں یہی روایتی شناخت نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شناخت، مذہب اور باپردہ خاتون ایک دوسرے کے برابر ہیں اور یہ شناخت عرب اسلامی تحریک سے جڑی ہوئی ہے، جسے بغیر کسی مزاحمت کے قبول کر لیا گیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ پردہ شناخت سے منسلک ہے اور یہ شناخت مسلم خواتین کو غیر مسلم خواتین سے الگ کرتی ہے۔ لیکن علامات مبہم بھی ہوتی ہیں اور ان کے کئی معانی نکالے جا سکتے ہیں۔

آسٹریلوی مضمون نگار ہیلن ریزر لکھتی ہیں کہ ’’برقعے میں ملبوس خواتین کے بارے میں کم از کم ان کی ظاہری شکل و صورت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاتا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح انسان سب کو برابری کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔ میسا چوسٹس کے سمتھ کالج میں ماہر ثقافت ابتسام بوعشرین اس کے برعکس کہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’’پردہ ایک موبائل گھر کی طرح ہے، جو خواتین کو یہ یاد کرواتا ہے کہ ان کی اصل جگہ ان کا گھر ہے۔‘‘

قرآن کی تشریح

قرآن کی تشریح پر بھی مسئلے ہیں۔ مختلف حلقے تشریحات بھی مختلف کرتے ہیں، جو مختلف آراء کی طرف لے کر جاتی ہیں۔ امریکا میں اسلامی امور پر تحقیق کرنے والی آمنہ ودود اپنی کتاب ’اسلام اینڈ وویمن‘‘ میں پردے کے بارے میں لکھتی ہیں کہ نزول قرآن کے وقت بھی کچھ امیر گھرانوں کی خواتین پردہ کرتی تھیں اور اس وقت پردہ غیر معمولی انداز میں حیا اور عاجزی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وہ اس نقطے کو بنیاد بنا کر کہتی ہیں، ’’قرآن عاجزی کو شرم و حیاء کی علامت سمجھتا ہے۔ پردے کی بنیاد عاجزی اور کسر نفسی ہے اور یہ اس وقت کے مخصوص حالات کے تناظر میں تھا۔‘‘ ان کی نظر میں پردے کی اب موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تشریح ضروری ہے۔

عیسائیت کی طرح اسلام میں اس وقت کوئی عالمی تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ متعدد تشریحات ایک دوسرے کے برعکس ہیں، یہ خطے، مختلف ممالک اور مختلف سماجی گروپوں میں مختلف ہیں، کہیں جزوی طور پر اختلاف ہے اور کہیں اس سے زیادہ۔ اسی طرح سعودی عرب میں وہ تشریحات ہیں، جو ان کے مفاد میں ہیں۔ اس طرح مذہبی سوالات مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں لیکن ان پر بحث کا عمل بھی جاری ہے اور خواتین کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔