1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا سعودی فلاحی نظام تباہی کے دہانے پر ہے؟

سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ملک کے فراخدلانہ کہلائے جانے والے سماجی نظام کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے تیل سے ہونے والی آمدنی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی کمی کے بعد اقتصادی شعبے میں اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔

شاہ سلمان کو سعودی فرمانروا بنے ابھی تقریباً ایک سال ہی ہوا ہے۔ انہوں نے اس دوران ملکی معیشت میں اصلاحات کرتے ہوئے مختلف شعبوں کو دی جانے والی حکومتی رعایتوں میں کمی کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق ریاض حکومت عشروں سے تیل کی فروخت سے ہونے والی آمدنی سے مقامی منڈی کو رعایت دے رہی تھی جبکہ عوام کو بھی تنخواہیں اور دیگر مراعات دینے کے معاملے میں کشادہ دلی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا۔ تاہم تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں نے اس بادشاہت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

سعودی ماہر اقتصادیات ترکی فدق نے کہا، ’’میرے خیال میں ہم ایک فلاحی ریاست کے تصور سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔‘‘ ان کے بقول شاہ سلمان کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی اصلاحات کا اصل مقصد ملکی اقتصادیات کو سہارا دینا ہے تاکہ تیل کی آمدنی پر سے مکمل انحصار کو کم کیا جا سکے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران آج کل اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ ان دنوں ایک بیرل تیل کی قیمت 28 ڈالر فی بیرل ہے۔ سعودی اقتصادیات کا نوے فیصد دارومدار تیل کی برآمدات پر ہے۔ اسی وجہ سے 2015ء میں سعودی بجٹ کو 98 ارب ڈالر خسارے کا سامنا تھا جبکہ رواں برس یہ خسارہ 87 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے بنیادی اشیاء کے علاوہ تیل، بجلی اور پانی کے نرخوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

ایک سعودی ماہر احسان بو حلائقۃ کے مطابق، ’’ریاض حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا، جب گزشتہ برس سعودی قیادت میں قائم ہونے والے اتحاد نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔‘‘ ان کے بقول مسائل کا تو شاہ سلمان کے اقتدار میں آنے سے قبل اسی وقت آغاز ہو گیا تھا، جب تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

مختلف کاروباری اداروں کا اندازہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں رعایت ختم کرنے سے حکومت کو ایک سال میں قریب سات ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔