1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا سعودی عرب کے پاس پیسہ کم ہو رہا ہے؟

عالمی سطح پر خام تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے سعودی عرب کی آمدنی میں بھی واضح کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر یمن جنگ کی وجہ سے اس ملک کے سرکاری اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

بڑھتے ہوئے سرکاری اخراجات اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سعودی عرب کی وزارت خزانہ نے مختلف سرکاری محکموں کو ایسا پیسہ واپس کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، جو ابھی تک استعمال میں نہیں لایا گیا۔ دنیا میں تیل برآمد کرنے والے سب بڑے ملک سعودی عرب میں ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ مختلف وزارتوں اور محکموں کو پیسہ واپس کرنے کا کہا گیا ہے۔ ابھی تک یہ محکمے اس قدر آزاد تھے کہ ایک منصوبے کے لیے مختص رقم کسی دوسرے منصوبے کے لیے بھی خرچ کی جا سکتی تھی۔ محکمے یہ پیسہ عارضی بونس یا سفری الاؤنس وغیرہ بڑھانے کے لیے استعمال کر لیتے تھے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے ذرائع کے مطابق اب تمام محکموں کو یہ واضح احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ مخصوص منصوبوں پر خرچ نہ ہونے والا پیسہ واپس وزارت خزانہ کو بھیجا جائے۔ سعودی وزارت خزانہ نے اپنے ان احکامات کی نہ تو تردید کی ہے اور نہ تصدیق۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مالی معاملات میں سعودی عرب کی سخت ہوتی ہوئی پالیسی تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور نجی تجزیہ کاروں کا حساب سے رواں برس سعودی عرب کو ریکارڈ 120 بلین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعودی حکومت اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گزشتہ برس اگست کے بعد سے اب تک اپنے 80 بلین ڈالر کے غیرملکی اثاثے فروخت کرچکی ہے۔

سعودی عرب کے مشہور مقامی ماہر اقتصادیات فضل البوعينين کا کہنا تھا، ’’سعودی عرب نے اس طرف توجہ مرکوز کر دی ہے کہ کس طرح پیسے کو زیادہ موثر طریقے سے خرچ کیا جا سکتا ہے۔ اس کو مطلب ہے کہ سخت معاشی نگرانی ہو گی۔‘‘

گزشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیر خزانہ ابراہم العساف کا کہنا تھا کہ ان کی وزارت ’’غیر ضروری اخراجات کے خاتمے کے لیے سوچ رہی ہے۔‘‘ ان کی طرف سے تو اس جملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب آئندہ بجٹ میں متعدد جگہوں پر کٹوتیاں کرے گا۔

تاہم ان تمام تر اقدامات کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ سعودی عرب دیوالیہ ہونے کی طرف جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے مرکزی بینک میں رکھے ہوئے مالی ذخائر کی مالیت رواں برس اگست میں بھی 655 بلین ڈالر تھی۔ رواں برس بجٹ میں خسارے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نئے سعودی شاہ سلمان نے آتے ہی موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اضافی رقوم اور انعامات کا اعلان کر دیا تھا، جن کی مالیت تقریبا 25 بلین ڈالر تھی۔ اس کے علاوہ یمن میں سعودی عرب کا ملٹری مشن بھی اضافی اخراجات کا سبب بن رہا ہے اور فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق ابھی تک کئی بلین ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں۔

دریں اثنا سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں فٹ بال اسٹیڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جسے محدود کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ٹرینیں خریدنے کا منصوبہ بھی ختم کر دیا گیا ہے جبکہ آئل فیلڈ کی وسعت کا کام بھی آہستہ کر دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس طرح کے بچتی اقدامات آئندہ برس بھی جاری رہیں گے لیکن ریاض میٹرو سسٹم منصوبے کو جاری رکھا جائے گا ، جس پر بائیس بلین ڈالر سے زائد رقم خرچ ہو گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق فی الحال سعودی عرب کوئی بڑی کٹوتیاں نہیں کرے گا لیکن مرحلہ وار دس فیصد اخراجات میں کمی لائی جائے گی۔