1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا ریمنڈ ڈیوس کی رہائی میں جمہوری  حکومت کا ہاتھ تھا؟

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کنڑیکٹر ریمنڈ ڈیوس کی جانب سے اپنی رہائی کے حوالے کیے جانے والے انکشافات پر پاکستان کے کئی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis (AP)

پاکستانی ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حصہ اُس وقت کی سویلین حکومت اور حسین حقانی کو امریکی جاسوس کی رہائی کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں لیکن کئی تجزیہ نگار اس الزام کو بے بنیا د قرار دیتے ہیں۔
معروف تجزیہ نگار اورانگریزی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاء الدین نے ان انکشافات پر اپنی رائے دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جب یہ واقعہ ہوا توجنرل پاشا نے مجھ سمیت تین صحافیوں کو بلایا اور بتایا کہ اگر وہ ریمنڈ ڈیوس کو رہائی نہ دلاتے تو اس بات کو امکان تھا کہ جیل میں اس کو کوئی قتل کر دیتا جیسا کہ ایک بھارتی جاسوس کے ساتھ بھی ہوا تھا۔‘‘ ضیاء الدین نے مزید بتایا کہ جنرل پاشا نے یہی وجہ سیاسی حکومت کو بھی بتائی تھی، لیکن یہ صرف ایک بہانہ تھا۔ وہ کہتے ہیں  کہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ اس میں سویلین حکومت یا حسین حقانی کا کوئی کردار تھا، ’’ اسےخالصتاً فوج کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔ اس وقت اصل حاکم ہی کیانی اور جنرل پاشا تھے۔ سویلین حکومت کی اتنی جرات نہیں کہ وہ ان معاملات میں کچھ بولے۔ پاشا نے ہمیں خود بتایا تھا کہ وہ امریکیوں کو یقین دلا چکے تھے کہ ریمنڈ ڈیوس کو کچھ نہیں ہو گا۔‘‘

سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے ستائیس جنوری 2011ء کو لاہور میں دو افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے قتل کر دیا تھا۔ امریکا کا موقف تھا کہ ڈیوس نے یہ اقدام اپنی ذاتی دفاع میں اٹھایا تھا۔ اس دوران واشنگٹن کا اصرار تھا کہ ریمنڈ ڈیوس ایک سفارتکار تھا، جس کو سفارتی استثنٰی حاصل تھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان اور امریکا کے مابین ایک طرح کا سفارتی بحران پیدا ہو گیا تھا جبکہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے مابین روابط بھی متاثر ہوئے تھے۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis (AP)

ایکسپریس ٹریبیون کے سابق ایگزیکٹو ایڈیٹر ضیاء الدین  نے ایک سوال کے جواب میں  کہا، ’’فوج نے ہی اس کی گرفتاری کے مسئلے کو بڑھا چڑھا پر پیش کیا کیونکہ وہ امریکا کو بدنام کرنا چاہتے تھے لیکن بعد میں جب امریکی دباؤ آیا تو فوج اس کو برداشت نہیں کر سکی۔ یہاں تک کے دیت کے پیسے بھی ہم نے ہی دیے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پیسے فوج کی طرف سے دیے گئے یا سویلین حکومت کی طرف سے۔‘‘

 سولہ مارچ کو ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے  فیضان حیدر اور فہیم کے اہل خانہ کو دیت کے طور پر بیس کروڑ روپے ادا کیے تھے۔ تاہم اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے کسی کو کوئی رقم ادا نہیں کی ہے۔ 

 ضیاء الدین  کے بقول، ’’ ہمارے میڈیا میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کہیں کہ فوج نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرایا تھا۔ اگر کوئی مجھ کو بلا کر پوچھے کہ اسے کس نے رہا کرایا تھا، تو میں بلا جھجک کہوں گا کہ فوج نے لیکن ہمارے اینکرز حضرات میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ایسا کہہ سکیں۔ سابق فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت نے امریکا میں نوکری کی۔ جنرل پاشا دبئی چلے گئے اور نوکر ہو گئے۔ جنرل راحیل نے سعودی عرب میں ملازمت اختیار کر لی۔ کیانی نے آسٹریلیا میں زمینیں خریدیں اور جنرل مشرف دبئی میں چھپے ہیں۔ کیا ہمارے میڈیا میں ہمت ہے کہ وہ ان جرنیلوں کے متعلق سوالات کرے۔ جنرل راحیل کی زمین اور سعودیہ میں ملازمت کے حوالے سے ذرا سی تنقید ہوئی تھی اور فورا سخت وارننگ دی گئی۔ ہمارا میڈیا اس وقت سیلف سینسر شپ کا شکار ہے۔‘‘


معروف دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم بھی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کا ذمہ دار فوجی قیادت کو سمجھتے ہیں۔ اس مسئلے پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’امریکی سفیرکیمرون منٹر خود اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ جنرل پاشا انہیں پیغامات کے ذریعے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حوالے سے اطلاعات دے رہے تھے۔ پورا معاملہ فوج کے ہی ہاتھ میں تھا۔ وہ امریکا کو خوش کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے انہوں نے اس کو رہا کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس امریکی جاسوس کے پاس سے حساس مقامات کے نقشے برآمد ہوئے تھے۔ اس پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا مقدمہ بنتا ہے، تو کیوں نہیں بنایا فوج نے یہ مقدمہ۔ دراصل فوج نے اس کو رہا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ کیانی اور پاشا نے اس حوالے سے امریکا کو یقین دہانیاں بھی کرا دیں تھیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس وقت فوج اور سویلین حکومت کے درمیان کشیدگی کی چل رہی ہے۔ پانامہ کا مسئلہ عروج پر ہے۔ ایسے وقت میں اگر میڈیا کہہ گا کہ آرمی نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرایا تھا تو فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ تو ہمارا میڈیا وہ کر رہا ہے ، جو اسے کرنے کا کہا جارہا ہے۔‘‘