1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کیا دماغ انٹرنیٹ کی طرح کام کرتا ہے؟

ایک نئی سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذہن کی کارگزاری انٹرنیٹ سے متشابہ ہے۔ اس تحقیق سے 19 ویں صدی کے دماغ سے متعلق ’’ٹاپ ڈاؤن‘‘ نظریے کی نفی ہو گئی ہے۔

default

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق ذہنی دباؤ یعنی ڈپریشن وغیرہ کے لئے دماغ کے مختلف چھوٹے چھوٹے مخصوص حصوں کے درمیان ایک مستحکم کنیکشن دیکھا گیا ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دماغی عوامل اور کارکردگی کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اس تحقیق سے انسانی اعصابی نظام کا مکمل خاکہ سامنے لانے میں خاصی مدد ملے گی۔

امریکہ کی ساؤتھ کیلیفورنیا یونیورسٹی سے وابستہ سائنسدانوں لیری سوینسن اور رچرڈ تھامپسن کی مشترکہ تحقیق پر مبنی اس رپورٹ میں چوہے کے دماغ کے ان خانوں کا جائزہ سامنے لایا گیا ہے، جو خوشی حاصل ہو جانے سے متعلق تھے۔

Gehirnstudie Flash-Galerie

محققین کے مطابق دماغ کے افعال بالکل انٹرنیٹ جیسے ہیں

ان سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں ایک خاص انجیکشن ’’ٹریسرز‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ اس انجیکشن میں شامل مرکب دماغی بافتوں میں مختلف نکات کا باعث بنتا ہے اور مالیکیولز دماغی سگنلز کو متاثر کئے بغیر خوردبین کی مدد سے ان اشاروں کے ساتھ ساتھ چل کر انہیں دیکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں چوہےکے دماغ کے ایک ہی حصے میں اس انجیکشن کے دو مرکبات منتقل کئے گئے۔ ان میں سے ایک مرکب کا کام یہ بتانا تھا کہ سگنلز کہاں سے آ رہے ہیں جبکہ دوسرا یہ بتاتا تھا کہ سنگلز جا کہاں رہے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ چوہے کے دماغ میں موجود ربط چہار سطحی ہے۔

’’اس چہار سطحی ڈھانچے سے یہ واضح ہے کہ دماغ کسی بڑی کمپنی کی طرح کام کرتا ہے، جہاں مختلف حصے آزادانہ کارکردگی میں مصروف ہوتے ہیں۔‘‘

رپورٹ عاطف توقیر

ادارت گوہرنذیرگیلانی

DW.COM

ویب لنکس