1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا داعش انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں ملوث ہے؟

داعش کے علماء کی طرف سے ایک ایسا فتویٰ جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت انسانی اعضاء نکالنا جائز ہے۔ امریکی حکام نے ایسے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ یہ گروپ انسانی اعضاء کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق کے مطابق داعش کی طرف سے یہ فتویٰ اکتیس جنوری دو ہزار پندرہ کو جاری کیا گیا تھا، جس کے مطابق کسی مسلمان کی جان بچانے کے لیے کسی قیدی کے اعضاء نکالے جا سکتے ہیں، چاہے یہ قیدی کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس فتوے کا ترجمہ امریکی حکومت کی طرف سے جاری کیا گیا ہے اور آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

امریکی حکام کے مطابق داعش کی طرف سے جاری کیا جانے والا یہ فتویٰ ان کاغذات کا حصہ تھا، جو مئی میں شام کے علاقے میں مارے جانے والے ایک چھاپے کے دوران قبضے میں لیے گئے تھے۔ داعش کی تحقیق اور فتویٰ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ اس فیصلے کے مطابق، ’’کسی مرتد کی زندگی اور اعضاء کی عزت ضروری نہیں ہے اور استثناء کے طور پر اعضاء نکالے جا سکتے ہیں۔‘‘ امریکی حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے ترجمے کے مطابق اس فتویٰ نمبر 68 میں کہا گیا ہے کہ ’’اگر قیدی کے جسم سے نکالے جانے والے اعضاء کی صورت میں اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو، تو بھی ایسا کرنا جائز ہے۔‘‘

تاہم ملنے والی دستاویزات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ داعش کی طرف سے اعضاء نکالے گئے تھے یا پھر ان کی اسمگلنگ کی گئی تھی لیکن ماضی میں بغداد حکومت نے بھی داعش پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ انسانی اعضاء نکالنے اور ان کی اسمگلنگ میں ملوث ہے۔

امریکی حکام کے مطابق مئی میں اسپیشل فورسز کے ایک چھاپے کے دوران جو دستاویزات قبضے میں لی گئی تھیں، وہ داعش تنظیم کے ڈھانچے کی وضاحت کرتی ہیں۔ ان سے داعش کی طرف سے فنڈز اکھٹے کرنے کے طریقہ ء کار اور اس کے پیروں کاروں کے لیے بنائے گئے قوانین کی وضاحت ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ میں عراقی سفیر محمد علی نے مطالبہ کیا ہے کہ قبضے میں لی گئیں دستاویزات سلامتی کونسل کو فراہم کی جانی چاہیئں تاکہ اعضاء کی اسمگلنگ کی تحقیقات ممکن ہو سکیں۔

مئی میں کی جانے اس کارروائی کے دوران داعش کا اعلیٰ مالیاتی عہدیدار ابو سیاف بھی مارا گیا تھا جبکہ ابو سیاف کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ امریکی حکام نے چند روز پہلے یہ معلومات اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی شیئر کی ہیں تاکہ ان کو بھی داعش کا ڈھانچہ سمجھنے میں مدد ملے۔