کیا خواتین کی خود مختاری سرعام رقص میں ہے؟ | وجود زن | DW | 08.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

کیا خواتین کی خود مختاری سرعام رقص میں ہے؟

پاکستان میں ملبوسات کے ایک برانڈ نے اپنی تشہیری مہم کے لیے ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں لڑکیاں لاہور کے انارکلی بازار میں بغیر کسی خوف یا ڈر کے رقص کر رہی ہیں۔

اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر خواتین کی آزادی کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کچھ لڑکیاں پہلے سے انارکلی بازار میں موجود ہیں اور ایک لڑکی چادر پہنے رکشہ سے اترتی ہے اور اسے بازار میں ہی ایک لڑکا ’ماشااللہ‘ کہتے ہوئے چھیڑتا ہے۔ بعد کے سین میں یہ لڑکیاں انارکلی بازار میں ڈانس کرتی ہیں۔

کیا یہ ویڈیو ایک مثبت یا منفی پیغام دے رہی ہے؟ اس حوالے سے لوگوں کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ کئی افراد نے اس اشتہاری مہم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سے خواتین کو دکھانے سے یہ نا تو مضبوط یا طاقتور ہو رہی ہیں اور نہ ہی اس طرح سے زیادہ خودمختاری حاصل کی جا سکتی ہے۔

ماضی میں پاکستان میں میڈیا اینکر کے طور پر کام کرنے والی فائزہ داؤد نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’میں ایک پاکستانی عورت ہوں، مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ مجھے بتایا جائے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں، اس ویڈیو میں اظہار رائے کا غلط استعمال کرتے ہوئے عورتوں کا استحصال دکھایا گیا ہے۔‘‘

فیس بک کی ایک اور صارف فائزہ مراد نے اس ویڈیو کے حوالے سے فیس بک پر لکھا،’’میں خواتین کو خود مختار دیکھنا چاہتی ہوں لیکن میرا نہیں خیال کے میں خود مختاری سٹرک پر ڈانس کر کے حاصل کر سکتی ہوں۔ میں یہ بھی مانتی ہوں کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کے لیے کوئی رائے قائم کرے۔‘‘ فائزہ نے یہ بھی لکھا کہ ’Do Your Own Thing‘ نامی برانڈ نے اس ویڈیو سے کافی شہرت حاصل کر لی ہے۔

فیس بک صارف حسن رضا نے لکھا،’’عورتوں کو اپنے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، خواتین کو تعلیمی اور اقتصادی طور پر خود مختار ہونا چاہیے لیکن رقص کرنا بھی کوئی غلط کام نہیں، عورت اپنے فیصلوں کے لیے مکمل طور پر آزاد ہونی چاہیے۔‘‘

کالم نگار بینا شاہ نے اس ویڈیو کے حوالے سے پاکستانی اخبار ڈان میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ اس اشتہار کو بہتر بنایا جاسکتا تھا اگر اس میں دکھایا جاتا کہ آخر میں مرد اور خواتین آپس میں بات چیت کر رہے ہیں لیکن اس ویڈیو میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی چڑیا گھر میں قید جانوروں کو لوگ دیکھ رہے ہیں۔‘‘

DW.COM