1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا خواتین کو حاجی علی کی قبر پر حاضری کی اجازت ملے گی؟

ممبئی میں صوفی بزرگ قاضی علی شاہ بخاری کی درگاہ کے اندرونی حصے میں خواتین عقیدت مندوں کے داخلے پر پابندی ہے۔ تاہم خواتین کے مختلف گروپس اس پابندی کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں۔ کیا مُّتولی اپنا فیصلہ تبدیل کر دیں گے؟

بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن ( بی ایم ایم اے) نے حاجی علی کی درگاہ کے اندرونی حصے( جہاں پر قبر موجود ہے) میں خواتین کے داخلے پر پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہوا ہے۔ اس تنظیم نے ممبئی ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے کہ درگاہ انتظامیہ کا یہ اقدام غیر آئینی ہے۔ بی ایم ایم اے کی شریک بانی نورجہاں نیاز نے اے ایف پی کو بتایا ’’ اگر عدالت کا فیصلہ ان کے حق میں آتا ہے تو یہ ایک مثبت مثال ہو گی اور اس کے طویل المدتی اثرات ہوں گے‘‘۔ ان کے بقول اس طرح تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی، جنہیں مذہبی مقامات کے ان حصوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے، جنہیں مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول درگاہ ٹرسٹ جنسی بنیادوں پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہی ہے۔

حاجی علی کی درگاہ پندرہویں صدی میں قائم کی گئی تھی اور یہ مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ اس کے علاوہ سیاحوں کی بڑی تعداد بھی یہ مزار دیکھنے کے لیے آتی ہے۔ اس درگاہ کے متُّولیوں نے2011ء میں یہ کہتے ہوئے خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کی تھی کہ اتنے مقدس صوفی کی قبر کے قریب خواتین کی موجودگی غیر شرعی ہے اور اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے‘‘۔ یہ مزار ممبئی کے ورلی ساحل پر تقریباً 500 میٹر سمندر کے اندر واقع ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسے 1430ء میں ایک ایسے امیر مسلم شخص کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا، جو اپنی تمام جائیداد چھوڑ کر حج کرنے چلا گیا تھا اور وہ قاضی علی شاہ بخاری تھے۔ بعد ازاں وہ صوفی بن گئے اور ان کا انتقال ایک روحانی سفر کے دوران ہوا اور ان کی لاش بحیرہ عرب میں جنوبی ممبئی کے پتھروں میں ملی۔ بعدازاں اُسی جگہ جہاں پر حاجی علی کی لاش ملی تھی، وہیں مسجد اور مزار تعمیر کیا گیا۔ یہ روایت بھی عام ہے کہ حاجی علی کا جسم خود بہ خود ممبئی کے ساحل سمندر پر موجود پتھروں پر آ پہنچا تھا۔

بھارت میں اور بھی کئی مزار اور مندر ہیں، جن کے اندرونی حصوں میں خواتین زائرین کو جانے نہیں دیا جاتا۔ نورجہاں نیاز کے مطابق خواتین عقیدت مندوں کو حاجی علی درگاہ سے متصل مسجد اور دیگر حصوں میں جانے کی اجازت تو ہے لیکن قبر کے قریب نصب جالیوں کو پکڑ کر دعا مانگنے نہیں دی جاتی۔ ان کے بقول درگاہ کے متولیوں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کی ایک وجہ خواتین کے ایامِ ماہواری بھی ہیں۔’’وہ خواتین کو ناپاک کہتے ہیں حالانکہ ماہواری ایک قدرتی عمل ہے اور اس کا تعلق پوری انسانیت کی پیدائش سے ہے۔ یہ کیسے گندہ ہو سکتا ہے؟۔

ماہرین کے مطابق عدالت مذہبی معاملات میں مداخلت کرنے سے دور ہی رہنے کی کوشش کرتی ہے اور درخواست گزاروں سے کہتی ہے کہ وہ عدالت کے باہر ہی آپس میں تصفیہ کر لیں۔ اس وجہ سے مشکل ہی ہے کہ عدالت بھارتیہ مسلم مہیلا اندولن کے حق میں کوئی فیصلہ دے۔