1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا حکومت صرف لاہور پر پیسہ خرچ کر رہی ہے؟

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ مارک اینڈر نے کہا ہے کہ پاکستان میں خوشحال اور غریب علاقوں کی ترقی کے درمیان عدم برابری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

پاکستان میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ مارک اینڈر نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر خرچ کیے جانے والی ترقیاتی رقم کا سیاسی پہلو ہوتا ہے اور یہ ان ضلعوں پر خرچ کی جاتی ہے جو پہلے ہی سے ترقی یافتہ ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں خوشحال اور غریب علاقوں کے درمیان عدم برابری میں اضافہ ہورہا ہے۔

اسلام آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مارک اینڈر نے کہا ہے کہ پنجاب کے سب سے ترقی یافتہ ڈسڑکٹ لاہور پر حکومتی فنڈز کی سرمایہ کاری سرائیکی علاقوں کے لیے مختص کی جانے والی رقم سے چھ گناہ زیادہ ہے۔

Strassenbahn in Lemberg

پاکستانی صوبہ پنجاب کے دار الحکومت لاہور میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی لاگت سے ملک میں پہلا میٹرو ٹرین منصوبہ 2014 ء میں ہی تیار ہو گیا تھا


سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سرائیکی علاقوں کی پسماندگی کی وجہ سے وہاں احساس محرومی بڑھ رہا ہے اور غربت کا فائدہ اٹھا کر انتہا پسند مذہبی تنظمیں ان علاقوں میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھا رہی ہیں۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے روزنامہ جنگ کے سابق مدیر نذیر لغاری نے اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جنوبی پنجاب کو پنجاب کے حکمرانوں نے ہمشیہ ہی نظر انداز کیا ہے۔ جس طرح ماضی میں پہلے مشرقی بنگال اور ون یونٹ کے دوران سندھ اور بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا۔ لیہ، ڈی جی خان، مظفر گڑھ اوربہاولپورکا شمار جنوبی پنجاب کے پسماندہ ضلعوں میں ہوتا ہے، جہاں غربت کا راج ہے۔ نہ وہاں بہتر اسکول ہیں، نہ پینے کا صاف پانی دستیاب ہے اور نہ ہی اسپتالوں کی حالت تسلی بخش ہے۔ نواز شریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو وہاں کی زراعت کا بھی بیٹرہ غرق ہوجاتا ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں کپاس اور گندم کی کاشت بھی بہت متاثر ہوئی لیکن حکومت کو ان علاقوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ کیا عجیب بات ہے کہ جنوبی پنجاب کپاس کا مرکز ہے لیکن اس کے حوالے سے ٹیکسٹائل پارک لاہورکے قریب لگایا جارہا ہے۔ اس سے حاکموں کی ترجیحات کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا،’’جنوبی پنجاب میں متعین 70 فیصد نوکر شاہی کا تعلق پنجاب سے ہے۔ سی سی ایس کے امتحان کی تیاری کے لیے تمام بڑے مراکز لاہور، گجرانوالہ اور دوسرے شہروں میں ہے۔ میڈیکل اور انجینیئرنگ کالجز میں بھی سرائیکی طلباء بڑی تعداد میں اس ٹیسٹ سسٹم کی وجہ سے داخلہ نہیں لے پاتے۔‘

Pakistan Kluft zwischen den Reichen und den Armen in Islamabad

یہ بھی پنجاب ہی کا حصہ ہے


اس صورتِ حال کی ذمہ داری کے حوالے سے انہوں نے کہا،’’صرف پنجاب کا حاکم طبقہ ہی اس کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ سرائیکی علاقوں کے جاگیردار بھی اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں۔ وہ خود لاہور میں رہتے ہیں لیکن ووٹ مانگنے کے لیے ان علاقوں میں آتے ہیں۔ انہوں نے عوام کو پسماندہ رکھا جس کی وجہ سے امن و محبت کا یہ خطہ آج انتہاپسند قوتوں کے ہاتھوں میں جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ پورے سرائیکی خطے میں ایک منظم منصوبے کے تحت مدارس قائم کیے گئے جس نے سرائیکی معاشرے کے خدوخال کو بدلنے کی کوشش کی۔‘‘
یو این ڈی پی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما و قصور سے رکنِ قومی اسمبلی وسیم اختر شیخ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پنجاب حکومت صرف لاہور پر پیسہ خرچ کررہی ہے۔ ہماری حکومت نے ملتان، ڈی جی خان، بہاولپور اور رحیم یار خان سمیت کئی سرائیکی علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ دانش اسکولوں کی ایک بڑی تعداد سرائیکی علاقوں میں ہے۔ رحیم یار خان میں حال ہی میں ڈائیلسز سینٹر کا افتتاح کیا گیا ہے۔ بہاولپور میں سولر پارک کا منصوبہ ہے۔ ملتان میں میٹرو آرہی ہے۔ اس کے علاوہ پورے جنوبی پنجاب میں سڑکوں کا جال بھی بچھایا جارہا ہے۔ تو اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ ہم سارا پیسہ لاہور میں خرچ کر رہے ہیں۔‘‘

DW.COM