1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا جے آئی ٹی متنازعہ بنتی جارہی ہے؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کئی حلقوں میں یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ پاناما پيپرز ميں شريف خاندان کے نام کے حوالے سے تحقيقات کرنے والی کميٹی متنازعہ ہوتی جا رہی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے صاحب زادے حسن نواز آج بروز جمعرات جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ساڑھے پانچ گھنٹے تک ان کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ جوائنٹ انويسٹيگيشن کميٹی کے سامنے یہ پیشی ایک ایسے وقت پر ہوئی، جب ن لیگ کے حلقوں میں جے آئی ٹی متنازعہ ہوتی جا رہی ہے۔

حکومت کے تحفظات کے حوالے سے ن لیگ کے اہم رہنما سینیٹر مشاہد اللہ خان نے ڈوئچے ویلے سے بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’اس جے آئی ٹی کے حوالے سے جو ہمارے تحفظات ہیں، ان کا ہم نے بر ملا اظہار کیا ہے۔ جب ایسے لوگوں کو جے آئی ٹی میں شامل کیا جائے گا، جو سابق صدر مشرف کے غیر جمہوری دور میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف ہونے والی تفتیش کا حصہ تھے، تو تحفظات تو ہوں گے۔ جے آئی ٹی کے دو ارکان ایسے ہیں جو ماضی ميں حدیبیہ پیپرز کیس اور دوسرے مقدمات کی تفتیشی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اگر کسی جج پر اعتراض کریں تو وہ بھی مقدمے سے دستبردار ہوجاتا ہے، تو پھر ایسے متنازعہ لوگوں کو جے آئی ٹی میں شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘


مشاہد اللہ خان نے جے آئی ٹی کے طرزِ عمل کے حوالے سے کہا، ’’کون سی جے آئی ٹی اس طرح تصویر جاری کرتی ہے جیسا کہ حسین نواز کی جاری کی گئی۔ ان کا نام تو کسی ایف آئی آر میں شامل نہیں اور نہ ہی وہ ملزم ہيں۔ طارق شفیع کو دھمکی دی گئی کہ دس سال کی قید ہوجائے گی۔ جاوید کیانی کو کہا گیا کہ وعدہ معاف گواہ بن جاؤ۔ حسین نواز کے حوالے سے یہ خبر لیک کی گئی کہ ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہے اور ان کے ليے ایمبولینس منگوائی گئی ہے۔ حسین نواز کے فون بھی رکھ ليے گئے تھے اور ان کے اہل خانہ کئی گھنٹے پريشان رہے کیونکہ وہ حسین نواز سے رابطہ نہیں کر پا رہے تھے۔ بتائیں دنیا کی کس جے آئی ٹی میں ایسا طرز عمل اختيار کيا جاتا ہے؟‘‘

ايک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’واٹس ایپ کال اور دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جے آئی ٹی متنازعہ بنتی جا رہی ہے اور ن لیگ اس تاثر کی ذمہ دار نہیں۔ میرے پاس کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں ہيں لیکن اگر رجسٹرار سپریم کورٹ نے یہ واٹس ایپ کال کی ہے تو یہ خود ایک مسئلہ ہے کیونکہ یہ ایک انتظامی معاملہ ہے۔ سپریم کورٹ حکومت کو کہہ سکتی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کرائے۔ میاں صاحب نے تو پہلے ہی دن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھ کر یہ حکم دے دیا تھا کہ سپریم کورٹ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے اور وہ جو مانگیں، انہیں دیا جائے۔ پھر اس طرح واٹس ایپ کال کرنا اور مخصوص لوگوں کو ٹیم کا حصہ بنانے کو کیسے مناسب کہا جا سکتا ہے۔اس طرح کے کاموں سے اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ مجروح ہوسکتی ہے۔‘‘

اس کے برعکس کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں ن لیگ خود جے آئی ٹی کو متنازعہ بنا رہی ہے۔ معروف کالم نگار وسیاسی مبصر ڈاکڑ خالد جاوید جان نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’مسلم لیگ نواز جے آئی ٹی کو متنازعہ بنا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جے آئی ٹی کسی قتل کے مقدمے کی تفتیش نہیں کر رہی۔ معاملہ سیدھا ہے کہ یہ کیس منی لانڈرنگ کا ہے۔ آپ منی ٹریل دے دیں اور بات ختم ہوجائے گی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس منی ٹریل ہوتی تو یہ پہلے ہی پیش کر دیتے۔ جو ثبوت ان کے پاس نہیں ہیں وہ کیسے لائیں گے۔ اسی ليے یہ جے آئی ٹی کو متنازعہ بنا رہے ہیں تاکہ اس کے نتائج یا رپورٹ کو مسترد کر سکیں۔‘‘


ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکڑ خالد جاوید جان نے کہا، ’’پاکستان مسلم لیگ )ن(  حسین نواز کی تصویر کا اتنا ڈھونڈرا پیٹ رہی ہے لیکن کیا تصویر میں ان پر تشدد کیا جا رہا ہے؟ کیا ان پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا جا رہا؟ وہ کسی عام پولیس اسٹیشن میں نہیں بیٹھے، جہاں پولیس لات پہلے اور سوال بعد میں کرتی ہے اور نہ ہی وہ کسی فوجی عدالت میں ہيں جہاں ان کے بنیادی حقوق سلب ہوں رہے ہوں۔ یہ سب صرف ہمدردی حاصل کرنے کے ليے کیا جا رہا لیکن اس مرتبہ اگر حکمران جماعت نے عدلیہ سے لڑائی کی تو کوئی اس کا ساتھ نہیں دے گا۔ پی پی پی پہلے ہی اشارہ دے چکی ہے کہ وہ عدلیہ کے ساتھ ہوگی۔ نون لیگ کو یہ لڑائی خود ہی لڑنی پڑے گی۔‘‘