1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا جہادی تنظیمیں مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچا رہی ہیں؟

حالیہ دنوں میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں وہاں ہونے والی ہلاکتوں نے پاکستان میں جہادی تنظیموں کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مزید تیز کردیں۔

جماعت الدعوہ، جس کے قائدین پر الزام ہے کہ انہوں نے لشکر طیبہ بنائی اور اس کے ذریعے بھارت میں دہشت گردانہ کارروائیاں کروائی اور انصارالامہ، جو ماضی میں حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار کے نام سے کام کرتی رہی ہے، نے کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیوں کے خلاف پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر کے کئی شہروں اور قصبوں میں ریلیاں نکالیں ہیں۔

جماعت الدعوہ کے مرکزی نائب سکریڑی اطلاعات احمد ندیم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہماری تنظیم نے آج مال روڈ لاہور سے ایک بڑی ریلی نکالی ہے، جس کی قیادت حافظ سعید صاحب کر رہے ہیں۔ یہ ریلی پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتی ہوئی راولپنڈی تک جائے گی، جہاں لیاقت باغ میں ایک استقبالیہ ہوگا اور اس کے بعد اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہء عام منعقد کیا جائے گا۔ راستے میں گوجرانوالہ، جہلم اور گجرات میں بھی جلسے منعقد کئے جائیں گئے۔ اس کارواں کا مقصد مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا ہے اور بین الاقوامی ضمیر کوجھنجھوڑنا ہے۔‘‘

Muhammad Saeed

جماعت الدعوہ کے مرکزی نائب سکریڑی اطلاعات احمد ندیم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہماری تنظیم نے آج مال روڈ لاہور سے ایک بڑی ریلی نکالی ہے، جس کی قیادت حافظ سعید صاحب کر رہے ہیں۔ ‘‘

حالیہ دنوں میں جماعت الدعوہ کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم نے حالیہ دنوں میں آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف شہروں میں چالیس سے زیادہ مظاہرے کئے۔اس کے علاوہ اسلام آباد میں ایک بڑا جلسہ بھی منعقد کیا۔ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ بھارت نے کشمیر میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ وہاں انٹرنیٹ، موبائل اور یہاں تک کے اخبارات تک پر پابندیاں لگا دی گئیں ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو اس صورتِ حال کا نوٹس لینا چاہیے۔‘‘

معروف جہادی رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل ماضی میں حرکت المجاہدین اورحرکت الانصار نامی جہادی تنظیموں کے سربراہ رہے ہیں لیکن جب ان تنظیموں پر پابندی لگائی گئی تو انہوں نے انصار الامہ کے نام سے کام کرنا شروع کر دیا اور یہ تنظیم بھی حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں کافی سرگرم نظر آرہی ہے۔ تنظیم کی سرگرمیوں کے بارے میں انصار الامہ کے مقامی رہنما مولانا صہیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کشمیر میں ظلم وستم کی انتہا کردی گئی ہے۔ لہذا کشمیریوں کو اپنے دفاع کے لئے جہاد کا حق حاصل ہے۔ دنیا میں کوئی بھی طاقت کشمیریوں کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور دنیا میں لوگ شہہ رگ کی حفاظت کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ، ’’ہماری تنظیم نے حالیہ دنوں میں کراچی، اسلام آباد اور مظفر آباد سمیت پاکستان اور آزاد کشمیر کے کئی شہروں میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالیں اور ہم آئندہ بھی کشمیریوں کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘‘

ناقدین کے خیال میں جہاں جہادی و فرقہ وارانہ تنظیمیں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورتِ حال کی آڑ میں سرگرمیاں تیز کرنے پر خوش ہیں، وہیں جموں و کشمیر کی خود مختاری کا نعرے لگانے والی کشمیری تنظیمیں ان کی سرگرمیوں پر چراغ پا ہیں۔ اس صورتِ حال پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کام کرنے والی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکڑ توقیر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کشمیرکی خود مختاری پر یقین رکھنے والی ساری تنظیمیں ان سرگرمیوں پر پریشان ہیں کیونکہ ان جہادی و فرقہ وارانہ تنظیموں نے ماضی میں بھی کشمیریوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی اِن کی سرگرمیاں بھارت کو یہ موقع فراہم کر رہی ہیں کہ وہ پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کرے کہ کشمیر میں آزادی کی تحریک میں مقامی لوگ نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کی طرف سے بھیجے ہوئے جہادی ہیں جو کشمیر میں مسائل کھڑے کر رہے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی حکومت پھر صورتِ حال کو دہشت گردی کے مسئلے سے جوڑ دے گا اور اس طرح کشمیری عالمی برادری کی ہمددریاں کھو دیں گے۔