1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا جنگی جنون پاکستان اور بھارت کی عوام کے لیے تباہ کن نہیں؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کی صورتِ حال کی وجہ سے گزشتہ کچھ مہینوں سے کشیدگی چل رہی ہے لیکن اڑی ملٹری کیمپ پر حملے اور اقوام متحدہ میں وزیرِ اعظم نوازشریف اور بھارتی مندوب کی تقاریر نے اس کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک میں سخت گیرعناصر اور ذرائع ابلاغ اس صورتِ حال کو مزید کشیدہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جو بھارت میں پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور پاکستان میں جنگی جنون کو بھڑکا رہے ہیں۔

DW.COM

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت نے فوجی سازو سامان پاکستان کی سرحد کے قریب پہنچا دیا ہے، جب کہ پاکستانی فضائیہ نے بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب روس کی فوج کا ایک زمینی دستہ پاکستان میں موجود ہے اور دونوں ممالک اپنی تاریخ میں پہلی بار مشترکہ فوجی مشقیں کرنے جارہے ہیں، جو چوبیس ستمبر سے لے کر دس اکتوبر تک جاری رہیں گی۔

لبرل تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی جنگی جنون اپنی معراج پر ہے لیکن ملک میں کئی ایسی آوازیں بھی ہیں، جو اس صورتِ حال کو خطرناک قرار دے رہی ہیں اور امن کی باتیں کر رہیں ہیں۔

فلم و ڈرامہ کی معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے ڈی ڈبیلو کو اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا، ’’منفی سوچ ہمیشہ اقلیت میں ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کی اکثریت امن پسند ہے، جو یہ پوچھ رہی ہے کہ آخر جنگ کی کیا ضرورت ہے۔ کیا دونوں ملکوں میں غربت، بیروزگاری، جہالت، بھوک، اورافلاس نہیں ہے۔ کیا جنگ ان مسائل کو حل کرے گی۔ دونوں ممالک جوہری طاقت کے حامل ہیں۔ کیا ہم ہیروشیما اور ناگا ساکی کو بھول گئے ہیں؟ کیا ہم نے جنگ کی تباہ کاریاں عراق، افغانستان، شا م اور لیبیا میں نہیں دیکھیں؟ یورپ نے صدیوں آپس میں لڑائیں کیں لیکن آج وہ آزادی سے ایک دوسرے کے شہروں میں گھوم رہے ہیں۔ ساری لڑائیوں کے بعد انہوں نے مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل کیے۔ تو اگر کل مذاکرات کرنے ہیں تو وہ آج ہی کیوں نہ کر لیے جائیں۔‘‘

جنگ کی تبلیغ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ثمینہ نے مزید کہا، ’’اس جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ بھارت کے لوگ ہمارے ڈراموں، اداکاروں اور گلوکاروں سے محبت کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اکثریت نفرت پر یقین نہیں رکھتی۔ اگر کچھ لوگ اپنی آنکھیں پھوڑ کر اپنے آپ کو اندھا کریں تو ہمیں ان کی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔‘‘

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی اور پاکستان انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کی سابق سیکرٹری انیس ہارون نے ڈی ڈبلیو کو اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا، ’’پاکستان اور بھارت میں امن کی بات کرنے والوں کے لیے جگہ کم ہوتی جارہی ہے۔ ماسوائے ایک قلیل اقلیت کے دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ جنگی جنون کو ہوا دے رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں کو فوری طور پر مداخلت کر کے اس کشیدگی کو کم کرانا چاہیے۔ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان میدانِ جنگ نہیں بننا چاہیے۔ اس کو حل کرنے کے لیے پاکستان، بھارت، کشمیری اور بین الاقوامی برادری کو مل کر بیٹھنا چاہیے اور اس خطرناک صورتِ حال کو ختم کرنا چاہیے۔ ‘‘

معروف معیشت دان ڈاکڑ شاہدہ وزارت نے کہا، ’’اب اگر جنگ ہوئی تو یہ محدود نہیں ہو گی۔ اگر بھارت پاکستان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا تو پاکستان بھی را کو ٹارگیٹ کرے گا۔ ہم روایتی جنگ نہیں جیت سکتے اور جب ہماری بقاء کا مسئلہ ہو گا تو ہم کو غیر روایتی ہتھیار استعمال کرنے پڑیں گے اور اگر خطے میں غیر روایتی جنگ ہوتی ہے تو معیشت کیا، کچھ بھی نہیں بچے گا۔‘‘

Indische Soldaten an der Grenze zwischen Indien und Pakistan

کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں بات جنگ تک نہیں پہنچے گی

ایک سوال کے جواب میں شاہدہ وزارت نے کہا، ’’چین اپنے لیے متبادل تجارتی راستے بنا رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں یہ راستے خطرے میں پڑجائیں گے۔ ایسی صورت میں دیکھنا ہوگا کہ چین ان راستوں کی حفاظت کے لیے کس حد تک جاتا ہے۔ جن قوتوں کو سی پیک سے خطرہ ہے، انہوں نے ہی اڑی میں حملہ کرایا ہے۔ پاکستان جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے کیوں کوئی حملہ کرائے گا۔ اس سے تو ساری توجہ کشمیر میں ہونے والی ظلم و زیادتی سے ہٹ جائے گی جو کسی طرح بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ لہذا یہ حملہ انہوں نے کرایا جو سی پیک کے مخالف ہیں اور کشمیر میں ہونے والے ظلم سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم کچھ تجزیہ نگاروں کے خیال میں بات جنگ تک نہیں پہنچے گی۔ معروف تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’میرے خیال میں فتح آخر میں دانا عناصر کی ہوگی۔ کوئی نہ کوئی مداخلت کرا کے اس کشیدگی کو کم کرا دے گا۔ جب جنگ کی تیاریاں بڑھتی ہیں تو حل کے لیے بھی لوگ سوچنا شروع کردیتے ہیں۔ البتہ موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے اب خطے میں معاشی انضمام و تعاون کا امکان کم ہو گیا ہے۔