1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا جرمنی مہاجرین کا ملک بن جائے گا؟

رواں برس ریکارڈ تعداد میں مہاجرین جرمنی پہنچ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال جرمنی کی سماجی، معاشی اور آبادیاتی صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہے، جو دراصل مہاجرین کے ملک کے طور پر پہچانے جانے سے گریزاں رہا ہے۔

یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی رواں برس آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد کی توقع کر رہا۔ یہ تعداد کسی ایک سال میں جرمنی کا رُخ کرنے والے مہاجرین کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد سے بھی دو گُنا کے قریب ہے۔ قبل ازیں 1992ء میں اس وقت جنگ سے بُری طرح متاثر ملک سابق یوگوسلاویہ سے 438,000 مہاجرین جرمنی آئے تھے۔

جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریئل بھی کہہ چکے ہیں کہ جرمنی اگلے چند سالوں تک سالانہ پانچ لاکھ مہاجرین کو قبول کر سکتا ہے۔ چانسلر انگیلا میرکل کے مطابق، ’’ہم جس صورتحال سے گزر رہے ہیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہمیں اگلے کئی برسوں تک گزرنا ہے اور جو آنے والے برسوں میں ہمارے ملک کو بدل دے گی۔‘‘

سوشل سائنس ریسرچر مائن ہارڈ مِیگل کا جرمن پبلک براڈکاسٹر ARD سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ ’’پیشگوئی کرنا ابھی مشکل ہے کہ یہ سلسلہ نعمت ثابت ہوتا ہے یا زحمت‘‘ تاہم یہ بات طے ہے کہ جرمن عوام کو جو ’’اپنی اپنی اسی دنیا میں رہنے کے خواہشمند ہیں جس کے وہ عادی ہیں، اب تبدیلیوں کو برداشت کرنا ہوگا اور ان کے باعث کوفت اٹھانے کو بھی تیار رہنا ہوگا‘‘۔

برلن کی فری یونیورسٹی سے منسلک پولیٹیکل سائنٹسٹ ہایو فنکے نے یہ بات تسلیم کی کہ ’’جب اتنی زیادہ تعداد میں لوگ آ رہے ہوں۔۔۔ تو یہ ایک بڑا چیلنج ہے‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر تعلیمی نظام میں ضروری رد وبدل کرنا پڑے گی چاہے وہ مہاجرین کے بچوں کے لیے داخلے کے طریقہ کار میں ہو یا مکمل تعلیمی نظام میں۔

مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں آمد کے باعث پیدا ہونے والا بحران یورپ کے لیے نیا ہے۔ میگل کے مطابق، ’’یورپ میں ایسی صورتحال پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی۔۔۔ اس لیے ہمیں تجربہ کرنا ہو گا۔‘‘

جرمنی رواں برس آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد کی توقع کر رہا

جرمنی رواں برس آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد کی توقع کر رہا

وہ اس بحران کا تقابل دوسری عالمی جنگ کے بعد کے جرمنی سے کرتے ہیں جب 12 ملین جرمن نسل کے لوگوں کو مشرقی جرمنی کے ممالک سے نکال دیا گیا تھا اور وہ تباہی و بربادی کے شکار اس ملک میں آئے تھے جہاں وہ اس سے پہلے کبھی نہیں رہے تھے۔ میگل کے مطابق، ’’ان لوگوں کے جرمن معاشرے میں انضمام کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئیں۔ تاہم جو چیز مددگار ثابت ہوئی وہ ایک جیسا پس منظر اور ایک ہی زبان تھی جو وہ بولتے تھے۔‘‘ مگر شام اور عراق سے آنے والے مہاجرین کے حوالے سے ایک مسئلہ یہی ہے کہ ان کی اکثریت جرمن زبان نہیں بولتی۔

جرمن آبادی کی جہاں شرح پیدائش انتہائی کم ہے، 2060ء تک مزید کم ہو کر 70 ملین رہ جانے کی توقع ہے۔ اس وقت اس یورپی ملک کی آبادی 81 ملین ہے۔ کام کرنے والے لوگوں کی تعداد میں کمی کی صورت میں جرمن حکومت کو پنشن کا نظام چلانے اور دیگر معاملات کے لیے بجٹ میں عدم توازن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مہاجرین تاہم جرمنی کی معمر ہوتی ہوئی آبادی میں دوبارہ جان ڈالنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور ان شعبوں کے لیے بھی ورکرز دستیاب ہو جائیں گے جہاں اس وقت ورک فورس کی کمی ہے۔