1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا ترکی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کر لے گا؟

متعدد پالسییوں پر اختلافات کے باوجود ترکی کی کوشش ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے جائیں تاہم ناقدین نے دونوں ممالک کے گرمجوشی پر مبنی حالیہ تعلقات کو ’مختصر لو افیئر‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ترک صدر کے خارجہ امور کی سربراہ عائشہ سوزان کے حوالے سے بتایا ہے کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے پاس موقع ہے کہ وہ خارجہ امور کے حوالے سے جرت مندانہ اقدامات کرے۔ انہوں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے رویے کو بے اعتنائی پر مبنی بھی قرار دیا ہے۔

امریکی پالیسیوں پر ’مایوس‘ ہوں، ترک صدر

امریکا کرد فائٹرز کو ہتھیارفراہم کر رہا ہے، ترک صدر

شام میں ترک فوجی مداخلت کا ہدف رقہ سے داعش کا خاتمہ، ایردوآن

یہ امر اہم ہے کہ اوباما کے دور صدارت کے آخری ماہ کے دوران واشنگٹن اور انقرہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ شامی تنازعے پر دونوں ممالک میں اختلافات تو تھے ہی لیکن ساتھ ہی ترک مذہبی مبلغ فتح اللہ گولن کا معاملہ بھی اس تناؤ کا باعث بنا تھا۔

عائشہ سوزان کے مطابق اب نئی امریکی انتظامیہ کو ترکی ساتھ باہمی تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ اس خاتون سفارتکار کے بقول تجارت، عسکری تعاون اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں میں دونوں ممالک کو اپنے باہمی تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے فوری بعد ترکی صدر سے رابطہ کیا تھا جبکہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے نئے سربراہ مائیک پومپیو نے گزشتہ ہفتے ہی ترکی کا دورہ کیا۔ اس کے علاوہ جمعے کے دن ہی امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ نے بھی انقرہ میں ترک رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔

تاہم دوسری طرف کئی ناقدین کے مطابق دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری کی یہ ابتدائی کوششیں اس وقت ناکام ہو سکتی ہیں، جب روایتی اختلافات نکل کر سامنے آئیں گے۔ تجزیہ نگار ایرون اشٹائن کے مطابق انقرہ حکومت کا خیال ہے کہ ٹرمپ ترکی کے ساتھ مفاہمت کی حقیقی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے ترکی  ٹرمپ پر تنقید سے گریز کر رہا ہے، حالانکہ دونوں ممالک میں کئی درینہ اختلافات موجود ہیں۔

ترکی کے معروف کالم نگار عبدالقادر سیلوی نے اپنے ایک تازہ کالم میں لکھا ہے کہ انقرہ حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کا رویہ محتاط ہے۔ ایک اور تجزیہ نگار فدا ہاکورا کے بقول ترک صدر ایردوآن اور ان کے ہم منصب ٹرمپ کے مابین جلد ہی پالیسی اختلافات پیدا ہو جائیں گے، بالخصوص ’پولیٹیکل اسلام‘ کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا، ’’ موجودہ لو افیئر مختصر ہو گا۔‘‘

ناقدین کے مطابق دیکھنا ہے کہ دو انتہائی اہم پالیسی معاملات پر امریکا کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔ ان میں ایک تو فتح اللہ گولن کی ترکی حوالگی کا مطالبہ ہے جبکہ دوسرا مسئلہ واشنگٹن حکومت کی کرد ڈٰیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی)  اور اس کے عسکری دھڑے کرد پیپلز پروٹیکشن پارٹی (وائی پی جے) کی حمایت ہے۔ یہ جنگجو ملیشیا امریکی تعاون سے شام میں فعال ہے جبکہ ترکی اسے کالعدم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کا حصہ قرار دیتا ہے۔

DW.COM