1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا بھٹو کا مقدمہ دوبارہ کھولا جا سکتا ہے؟

کیا تین دہائیوں بعد سپریم کورٹ ایک ایسے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کا اختیار رکھتی ہے، جس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل بھی متفقہ طور پر مسترد کی جا چکی ہو؟ اس سوال کے جواب میں آئینی ماہرین متضاد آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔

default

پاکستان میں غیر جانب دار آئینی ماہرین کی بڑی تعداد کا ماننا ہے کہ اگرچہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کیس میں انصاف کے تقاضے اچھی طرح پورے نہیں کیے گئے تھے تاہم پھر بھی آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیا سی کے تحت اس مقدمے کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سعید ا لزماں صدیقی نے بتایا کہ بھٹو کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے صدارتی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت داخل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ آرٹیکل عوامی اہمیت کے حامل کسی قانونی مسئلے پر سپریم کورٹ کی رائے مانگنے سے متعلق ہے۔ اس شق کو کسی شخص کے انفرادی مقدمے کے حوالے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول انیس سو ستانوے میں صدر فاروق لغاری نے ججوں کے مسئلے پر اور انیس سو چھپن میں گورنر جنرل نے مولوی تمیز ا لدین کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رائے مانگی تھی۔ ان کےبقول صدارتی ریفرنس میں اس طرح کے کسی آئینی مسئلے پر رائے نہیں مانگی گئی بلکہ ایک شخص کے طے شدہ مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی ہے۔

Asif Ali Zardari

صدر آصف علی زرداری کی طرف سے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ریفرنس داخل کیا گیا ہے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) طارق محمود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بھٹو کا مقدمہ شق ایک سو چھیاسی کے تحت نہیں کھولا جا سکتا البتہ ان کی رائے میں اس سلسلے میں یا تو نئی قانون سازی کرنا پڑے گی یا پھر شاید آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی کے تحت کوشش کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول یہ ریفرنس ایک کامیاب سیاسی چال ہے، جس کے ذریعے سپریم کورٹ کو ایک آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے اور کسی بھی فیصلے کی صورت میں جیت ریفرنس داخل کرنے والوں کی ہی ہو گی۔

پاکستان کے وزیر قانون بابر اعوان کہتے ہیں کہ یہ آئینی ریفرنس عدالتی تاریخ کا سیاہ دھبہ دھونے کے لیے دائر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بھٹو کو پھانسی دینے والے ججوں میں سے کچھ دباؤ میں آکر فیصلہ دینے کا اقبالی بیان دے چکے ہیں۔

ادھر سینئر قانون دان احمد رضا قصوری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ بھٹو کو تین ججوں نے بری کرنے اور چار ججوں نے پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا تھا لیکن اس فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل میں سپریم کورٹ کے ساتوں کے ساتوں ججوں نے متفقہ طور پر اس اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد اس قسم کا آئینی ریفرنس لانا غیر قانونی ہے۔ ان کے بقول بھٹو کیس ری اوپن ہونے سے ایک پنڈورا بکس کھل جائے گا اور پھر ہر سزا یافتہ شخص ’’تاریخ کی درستگی‘‘ کے لیے عدالت آن پہنچے گا۔

پیپلز پارٹی کے حامی وکلاء اس صدارتی ریفرنس کو آئینی مانتے ہیں اور اس کی ضرورت اور اہمیت پر اصرار کرتے ہیں لیکن لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال کہتی ہیں کہ بھٹو کیس کے فیصلے کو کبھی سنجیدہ حلقوں نے نہیں مانا۔ اس لیے اس ریفرنس کو لانے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے بقول ہو سکتا ہے کہ بظاہر یہ ریفرنس دائر کرکے کچھ لوگ زر تلافی حاصل کرنا چاہتے ہوں یا پھر لوگوں کی توجہ سنگین ہوتے ہوئے مسائل سے ہٹانا چاہتے ہوں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ ریفرنس پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومتوں میں دائر کیوں نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول یہ کیا ماجرا ہے کہ بینظیر بھٹو کی تحقیقات منظر عام پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے اور بھٹو کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے پر اصرار کیا جا رہاہے؟ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت سپریم کورٹ میں ایک ریفرنس داخل کیا گیا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد،لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM