کیا بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 05.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا بھارت اسرائیل دفاعی تعاون پاکستان کے لیے خطرہ ہے؟

بھارتی وزیر اعظم کے دورہ اسرائیل اور دفاعی معاہدوں نے اسلام آباد میں ’خطرے کی گھنٹیاں‘ بجا دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اسرائیل سے جدید دفاعی سازو سامان خرید رہا ہے، جسے وہ پاکستان کے خلاف بھی استعمال کر سکتا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل سے پہلے امریکا کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے دو ارب ڈالرز کے دفاعی معاہدے بھی کئے تھے۔ نریندر مودی کے دورہ اسرائیل پر تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’بھارت کی کوشش ہے کہ وہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو دہشت گردی قرار دلوائے۔ دنیا میں آج دہشت گردی کے نام پر کسی بھی طرح کے ہتھیار استعمال کئے جا سکتے ہیں اور اقوام کی تحریکوں کو دبایا جا سکتا ہے۔ تو ایک فائدہ بھارت یہ اٹھا سکتا ہے کہ کشمیر اور فلسطین کی صورتِ حال کو وہ ایک جیسا قرار دے کر، اسرائیل سے خطرناک طریقے سیکھ کر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کو مزید بڑھائے، جس سے خطے میں یقیناً کشیدگی بڑھے گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بھارت کو ٹیکنالوجی چاہیے اور اسرائیل کو اپنے دفاعی سامان کے لئے مارکیٹ، اس لئے دونوں میں قربت بڑھ رہی ہے، ’’اسرائیل کے پاس جو جاسوسی کے حوالے سے سامان ہے، وہ دنیا میں بہترین تصور ہوتا ہے اور بھارت کو ایسے ہی سامان کی ضرورت ہے۔ اگر وہ یہ حاصل کرتا ہے تو اس سے نئی دہلی کی خطے میں پوزیشن مستحکم ہوگی اور پاکستان کے لئے اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔‘‘


ان کا کہنا تھا کہ یہ تصور غلط ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو پچیس برس ہوئے ہیں،’’جب اسرائیل نے عراق کا جوہری ریکڑ تباہ کیا تھا، تو بھارت نے اسرائیل سے مدد مانگی تھی اور نئی دہلی کہوٹہ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ تل ابیب نے نئی دہلی کو یقین دلایا تھا کہ اگر بھارت حملہ کرے گا تو اسرائیل بھی اپنے جنگی طیارے بھیجے گا۔ اس دور میں مسلم بم کا بڑ ا پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا لیکن پاکستان کو اس کی بر وقت اطلاع مل گئی تھی اور ہمارے طیارے چوبیس گھنٹے فضاء میں رہنے لگے۔ اس کے علاوہ زمینی دفاع بھی ہم نے سخت کر دیا تھا۔ تو بھارت اپنے عزائم میں ناکام ہوا لیکن اس تفصیل کا مقصد یہ ہے کہ ان تعلقات کو صرف پچیس برس نہیں ہوئے بلکہ اسرائیل اور بھارت کے اس سے پہلے بھی خفیہ تعلقات تھے۔‘‘

بھارت اسرائیل سے دو ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے گا
معروف سابق سفارت کار نجم الدین شیخ نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’بھارت اسرائیل سے جاسوسی کے آلات اور ایسے ایئر کرافٹ خرید رہا ہے، جو سمندروں کی نگرانی میں بہت موثر ہیں۔ اس سے خطے میں اسٹریٹیجک توازن برقرار نہیں رہے گا اور بھارت کی اس حوالے سے پوزیشن زیادہ بہتر ہو جائے گی، جو پاکستان کے لئے پریشان کن ہوسکتی۔‘‘
سابق ایئر وائس مارشل شاہد لطیف نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’بھارت نے اس سے پہلے امریکا سے دو ارب ڈالرز کے ڈرونز خریدے اور اب وہ اسرائیل سے ہتھیار لے رہا ہے۔ وہ دھڑا دھڑ ہتھیار جمع کر رہا ہے، جس سے اسٹریٹیجک توازن خراب ہو رہا ہے۔ ہمیں اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے روس اور چین سے اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کرنی چاہیے کیونکہ امریکا ہماری مدد نہیں کرے گا۔ ہمارے خطے کے مسائل بھی، جیسے کہ کشمیر، دہشت گردی اور افغانستان کا عدم استحکام بھی خطے کے ممالک میں تعاون سے حل ہوگا، تو ہمیں علاقائی تعاون کو بڑھانا ہوگا۔‘‘
سابق سفیر برائے ایران فوزیہ نسرین نے کہا، ’’مودی کا دورہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت نے فلسطین کے حوالے سے اپنا نقطہء نظر تبدیل کر لیا ہے۔ ٹرمپ، مودی اور نیتن یاہو تینوں ہی سخت گیر رہنما تصور کئے جاتے ہیں۔ تینوں ہی دہشت گردی کے خلاف ہیں او ر بھارت کی یہ کوشش ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کے وہ دہشت گردی کا شکار ہے۔ یوں اسے امریکا، اسرائیل اور دنیا کے دوسرے اہم ممالک کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، جس سے پاکستان کے لئے دشواریاں بڑھ سکتی ہیں۔‘‘

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات