1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا بغیر کام کیے معاوضہ ملتے رہنا چاہیے؟

سوئٹزرلینڈ میں اتوار کے روز ہوئے ایک ریفرنڈم میں ملک کی اکثریت نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیے ہیں کہ ہر شہری کو لازمی طور پر ایک مخصوص آمدنی حاصل ہونی چاہیے۔ تاہم ایسا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے۔

سوئٹزرلینڈ میں آج اس بات پر ریفرنڈم منعقد کیا گیا کہ ہر شہری کو لازمی طور پر ایک مخصوص آمدنی حاصل ہونی چاہیے یا نہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا ریفرنڈم تھے۔ گو کہ عوامی جائزوں سے یہ معلوم ہو چکا تھاکہ ملک کی ستر فیصد آبادی اس تجویز کے خلاف ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیس فیصد افراد نے بھی اس ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دے دیا تو یہ ان حلقوں کی کامیابی تصور کی جائے گی جو ایک مخصوص آمدنی کے حق میں ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عوام کی اکثریت نے تجویز کی مخالفت میں ووٹ دیے ہیں۔ پانچ میں سے چار افراد اس بات کے حق میں نہیں کہ ہر شہری کو کام کیے بغیر بھی ایک مخصوص رقم ضرور ملنی چاہیے۔

دوسری جانب چھیاسٹھ فیصد سوئس شہریوں نے حکومت کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے شورش زدہ ممالک سے یورپ کا رخ کرنے والے افراد اور سوئٹزرلینڈ میں پناہ کے متلاشیوں کے کیسوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

کام کیے بغیر آمدنی کے استحقاق سے متعلق تحریک شروع کرنے والے حلقوں اور تنظیموں کا مطالبہ رہا ہے کہ پچیس ہزار سوئس فرانک یا دو ہزار تین سو یورو ہر بالغ سوئس شہری کو، اور چھ سو پچیس فرانک ہر سوئس بچے کو حکومت کی جانب سے ادا کیے جانے چاہییں۔

ریفرینڈم کرانے کی ضرورت اس لے پڑی کے اصلاح پسندوں نے اس تجویز کے حق میں ایک لاکھ دستخط حاصل کر لیے تھے۔ سوئس جمہوریت میں حکومت ہر اس تجویز پر ریفرنڈم کرانے کی پابند ہوتی ہے جس کے حق میں ایک لاکھ دستخط حاصل کر لیے جائیں۔

سیاسی تجزیہ کار آندریاس لانڈر کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سوئس عوام حقیقت پسندانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گو کہ ریفرنڈم کی تائید میں ملک کی اکثریت نے ووٹ نہیں دیا، تاہم یہ بات اہم ہے کہ بہت سے لوگ اس کے حق میں بھی ہیں اور اس سے ثابت ہوتا کہ آنے والے دنوں میں سوئس معاشرے میں اس حوالے سے بحث جاری رہے گی۔