1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا ’برمنگھم‘ انتہا پسندوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے؟

بدھ کے روز لندن میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد دنیا بھر کی توجہ انگلینڈ کے دوسرے اہم شہر برمنگھم پر مرکوز ہو گئی۔ اسی شہر میں چھاپے مارے گئے اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ کیا برمنگھم دہشت گردوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے؟

برمنگھم لندن سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے اس شہر کے بارے میں منفی خبریں ہی سننے کو ملی ہیں۔ امریکی فوکس نیوز چینل کے ایک تبصرہ نگار نے ستمبر 2015ء میں کہا تھا کہ برمنگھم غیر مسلموں کے لیے ’علاقہ غیر‘ ہے۔ تاہم اس بیان کو مضحکہ خیز ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس شہر کی آبادی گیارہ لاکھ ہے اور اگر مضفاتی علاقوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تیس لاکھ سے زائد بنتی ہے۔

برمنگھم کے ایک رہائشی فرحان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دہشت گردی کے کسی بھی واقعے پر افسوس ہوتا ہے اور اس کے فوری بعد یہ ذہن میں آتا ہے کہ کہیں حملہ آور کوئی مسلمان نہ ہو، پاکستانی نہ ہو اور اس کا تعلق برمنگھم سے نہ ہو۔‘‘ فرحان کے بقول ، ’’ہمیں واقعے کے بعد کے رد عمل سے خوف آتا ہے‘‘۔

Muslime beim Freitagsgebet in Birmingham

برمنگھم کی تقریباً ساڑھے چودہ فیصد آبادی کا تعلق پاکستان سے ہے، جن میں سے زیادہ تر آزاد کشمیر اور مغربی پنچاب سے یہاں آ کر بسے ہیں

برمنگھم ایک متنوع شہر ہے۔ یہاں پر مختف مذاہب اور مختلف نسلوں کے لوگ آباد ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ شہر الگ تھلگ ہے اور بہت زیادہ منقسم بھی۔ یہاں پر ایسی دکانیں ہیں، جہاں صرف عربی زبان کی کتابیں فروخت کی جاتی ہیں، پاکستانی دکانوں اور ریستوران کی بھرمار ہے اور حلال قصائی ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اقتصادی حوالے سے واضح فرق بھی دکھائی دیتا ہے۔

2011 ء میں ہونے والی مردم شماری میں شہر کی 21.8 فیصد آبادی نے خود کو مسلم قرار دیا۔ برمنگھم میں مسلمانوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس شہر کی تقریباً ساڑھے چودہ فیصد آبادی کا تعلق پاکستان سے ہے، جن میں سے زیادہ تر آزاد کشمیر اور مغربی پنچاب سے یہاں آ کر بسے ہیں۔

برمنگھم میں معاشی سرگرمیوں میں ایک مرتبہ تیزی آئی ہے لیکن اس میں شہر کی مسلم آبادی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ بے شک یہاں کا ہر پانچواں باسی مسلمان ہے لیکن ان میں بے روزگاری کی شرح دوسروں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

معاشی محرومی اور مذہبی قدامت پرستی کے امتزاج کی وجہ سے اسے انتہا پسندی کے لیے ایک زرخیز شہر قرار دیا جاتا ہے۔ بہت سے مسلم والدین اس لیے پریشان ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کو دو مختلف خطرات سے محفوظ رکھنا پڑ رہا ہے۔ ایک جانب اسلامی شدت پسندی ہے تو دوسری طرف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ۔

 لندن کا حملہ آور برطانیہ میں پیدا ہوا اور پروان چڑھا ہے۔ سلامتی کے اداروں کو اس کے بارے علم تھا اور حملہ میں استعمال ہونے والی کار اس نے برمنگھم سے کرائے پر لی تھی۔ اس واقعے میں بھی کسی نہ کسی طرح برمنگھم کا نام  آ ہی گیا۔