1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا ایران تبدیل ہو رہا ہے؟

ایران کا سیاسی بحران حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد پیدا ہوا ہے، تاہم کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض صدارتی انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ نہیں ہے، اس بحران کی جڑیں ایرانی سماج میں بہت گہری ہیں۔

default

کہا نہیں جا سکتا کہ ایرانی حکومت مکمل طور پر مظاہرین کو دبانے میں کامیاب ہو جائے گی

Iran Kombo Ahmadinedschad Chamenei und Dschannati

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای، شوریِٰ نگہبان کے سربراہ احمد جنّتی، صدر احمدی نژاد

تنازعہ بارہ جون کے صدارتی انتخابات کے بعد اس وقت پیدا ہوا جب سرکاری نتائج کے مطابق صدر احمدی نژاد کو تریسٹھ فیصد ووٹ ملے اور ان کے قریب ترین حریف اصلاح پسند رہنما حسین موسوی کو محض بتیس فیصد۔ حسین موسوی نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔ اس کے بعد تہران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور تشدّد کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں متعدد مظاہرین ہلاک بھی ہوئے۔ گو کہ ایرانی حکومت نے طاقت کے ذریعے مظاہرین کو کسی حد تک دبا دیا ہے تاہم مبصرین کے مطابق یہ تنازعہ ابھی حل ہونے سے بہت دور ہے۔

ایران میں میڈیا پر سرکاری کنٹرول کے باعث ان مظاہروں کی مکمل اور غیر جانب دار کوریج ممکن نہیں تھی۔ مظاہرے شروع ہونے کے بعد حکومت نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر بھی پابندی عائد کر دی۔ تاہم ٹیکنالوجی کی ترقّی کے باعث ویڈیوز اور تصویرں کے انٹرنیٹ پہ گردش کرنے کے باعث تمام دنیا نے دیکھا کہ ایران میں کیا ہو رہا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اسی حوالے سے کہا کہ ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دنیا کی نظریں ہیں۔

Symbobild Obama Iran

سیاسی مبصرین کے مطابق اوباما یہ نہیں چاہتے کہ امریکہ ایرانی معاملات میں مداخلت کرکے ایرانی حکومت کو یہ موقع فراہم کرے وہ اس بحران کا الزام امریکہ پر لگا کر خود بری الزمہ ہو جائے


اوباما کہتے ہیں کہ ’ایرانی حکومت کی جانب سے بعض بیانات کے لب و لہجے پر مجھے بے حد تشویش ہے اور میں ایرانی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ دنیا انہیں دیکھ رہی ہے۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ ایرانی حکومت پر امن مظاہرین کے ساتھ کس طرح سے پیش آ رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ایک پیغام ہے کہ ایران کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ تاہم، ہم ایران کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں اور ہم مانتے ہیں کہ بالآخر ایرانی حکومت کو ہی اپنے فیصلے کرنے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آخرِ کار ایرانی عوام کو انصاف ملے گا‘

امریکی صدر باراک اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمان ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے جو اقدامات کئے، ان میں سے ایک ایران کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کا آغاز بھی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق وہ یہ نہیں چاہتے کہ امریکہ ایرانی معاملات میں مداخلت کرکے ایرانی حکومت کو یہ موقع فراہم کرے وہ اس بحران کا الزام امریکہ پر لگا کر خود بری الزمہ ہو جائے۔

Bild-Galerie Exil-Iraner in Paris

پیرس میں تارکینِ وطن ایرانی باشندے ایران کی صورتِ حال پر مظاہرہ کرتے ہوئے


تاہم امریکی صدر پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ وہ اس نوعیت کے مسئلے پر اتنے محتاط کیسے ہو سکتے ہیں جب ایرانی عوام اس طرح کے خیالات کا اظہار کر رہی ہو۔

’میرے کچھ دوستوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہیں، ان کو کہاں رکھا گیا ہے۔ وہ صرف شاپنگ کرنے کے لیے گئے تھے۔ اور اب جب میں اس بارے میں بات کر رہی ہوں تو میں خود ڈری ہوئی ہوں۔‘

’ موسوی پر لوگ اعتماد کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر موسوی صدر ہوں تو ہمیں زیادہ آزادی حاصل ہو گی، خاص طور پر عورتوں کو کیونکہ موسوی کا کہنا ہے کہ وہ اسکارف کے معاملے میں سخت نہیں ہیں۔‘

’مجھے اپنا ملک پسند نہیں ہے مگر میں اپنے لوگوں سے محبت کرتی ہوں۔ ہمیں جمہوریت سیکھنی چاہیے جو کہ ہم ایران میں نہیں جانتے۔ ہم صرف اپنے مذہبی اعتقادات کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔‘

[ویب بلاگس سے حاصل کردہ مواد]

بارہ جون کو ہونے والے ایران کے صدارتی انتخابات سے پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ صدر محمود احمدی نژاد کو اتنے شدید عوامی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ایران میں اب نہ صرف احمدی نژاد مخالف نعرے سرِ عام لگ رہے ہیں بلکہ ایرانی عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد تو اب ایرانی ریاست پر برسرِ اقتدار دیگر قوتوں کے خلاف بھی غم و غصّے کا اظہار کر رہی ہے۔

ایسا نہیں کہ ایران میں جاری حالیہ مظاہرے کوئی پہلا واقعہ ہیں۔ اس سے قبل بھی ایران میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حصول کے لئے تحریکیں چلتی رہی ہیں اور مظاہرے بھی ہوتے رہے ہیں۔ لیکن اب صورتِ حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic