1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا ایدھی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین چاہتے تھے؟

عبدالستار ایدھی نے چھ دہائیوں تک اپنے ادارے کے ذریعے لوگوں کی خدمت کی۔ انہوں نے انتہائی سادہ زندگی گزاری اورانسانیت کے خدمت کے مشن کو لے کر آگے بڑھے۔ 9 جولائی کو انہیں اعلیٰ سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔

ایدھی کی وفات پر ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل دکھی۔ ایدھی نے اپنی تمام زندگی عام اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ گزاری۔ 25 برس قبل کراچی کے ایدھی ویلج میں انہوں نے اپنی قبر تیار کر لی تھی۔ وہ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی اپنے لوگوں کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ انسانیت کے اس عظیم خدمت گار کی وفات کے بعد انہیں اعلیٰ سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا تھا۔

ایدھی کے جنازے میں پاکستانی صدر، پاکستانی مسلح افواج کے تینوں سربراہان اور متعدد سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی لیکن سکیورٹی خدشات کے باعث عام عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے جنازے میں شریک نہ ہو پائی تھی۔ اس حوالے سے کئی افراد نے حکومت کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ان کی رائے میں ایدھی ایک عوامی شخص تھے اور ان کا جنازہ بھی عوامی ہونا چاہیے تھا۔

تجزیہ کار اور کالم نگار زاہد حسین نے پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں ایک مضمون میں لکھا،’’سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین نے ایدھی کو آخری وقت میں عام لوگوں سے جدا کر دیا، وہ لوگ جن کے لیے ایدھی نے اپنی زندگی گزاری۔ جنازے میں پاکستان کی بڑی اور اہم شخصیات کو عام لوگوں سے جدا رکھا گیا تھا۔‘‘ زاہد حسین لکھتے ہیں کہ ایدھی کی یہی خواہش ہوگی کہ غریب اور بے سہارا افراد ہی ان کے جسد خاکی کو کندھا دیں۔

سوشل میڈیا کے ایک صارف عاصم خان نے اس حوالے سے لکھا،’’ جو زندگی بھر عام آدمی کے ساتھ رہا اور جس نے اس ملک کے سب سے کم وسائل رکھنے والے افراد کے ساتھ پوری زندگی گزار دی، اس کے جنازے میں اتنی تعداد میں تو لوگ شریک ہو پاتے جتنی لاشیں انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اٹھائی تھیں۔‘‘

تاہم ایدھی صاحب کے بیٹے فیصل ایدھی نے ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین اور اس ضمن میں حکومت کے کردار کو درست قرار دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں فیصل ایدھی کا کہنا تھا، ’’لوگوں نے بتایا کہ انہیں جنازے میں شرکت کرنے میں دشواری پیش آئی لیکن پھر بھی وہ ایدھی صاحب کے احترام اور ان سے محبت کی وجہ سے شریک ہوئے۔‘‘

DW.COM