1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا امریکہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتا ہے؟

نیویارک ٹائمز نے جنوبی ایشیا کا ایک ایسا نقشہ شائع کیا ہے کہ جس میں پاکستان صرف صوبہ سندھ اور پنجاب پر مشتمل ہے۔

default

معروف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمزنے جنوبی ایشیاء کے ایک نیا نقشہ شائع کیا ہے۔ اس نقشے میں پاکستان کے شمالی قبائلی علاقے اور صوبہ سرحد کو افغانستان میں شامل کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس طرح اس نقشے میں پاکستان کا علاقہ بہت محدود ہو گیا ہے۔ دراصل اس نقشے کا پس منظردوسال پرانا ہے۔ جون سن دو ہزارچھ میں Ralph Peters نامی ایک شخص نے امریکہ کے معروف جریدے Armed Forces Journal میں ایک آرٹیکل شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا Blood Borders :How a better Middeleast would look اس میں ایران افغانستان اور پاکستان کا ایک نیا نقشہ پیش کیا گیا۔ اس نقشے میں پاکستان محض صوبہ سندھ اور پنجاب پرمشتمل ہے۔ جبکہ بلوچستان کو آزاد اورشمالی علاقوں اورسرحد کو افغانستان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اب یہی نقشہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے چھاپا۔ خود نیو یارک ٹائمزکے مطابق اس نقشے کی اشاعت کے بعد پاکستان کے مختلف حلقوں میں بیچینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور امریکیوں کے اس نقشے کے بعد پاکستانی فوجی افسران سمیت پاکستانی باشندوں پریہ حقیقت کھل گئی ہے کہ امریکہ مسلم دنیاء کی واحد نیوکلئیرطاقت کو توڑنا چاہتا ہے۔ معروف پاکستانی تجزیہ نگار طلعت مسعود کے مطابق ’بھارت کے ساتھ غیرفوجی نیوکلئیرمعاہدہ کر کہ امریکہ نے خطے کا ایٹمی منظرنامہ مکمل طور پربدل دیا ہے، پاکستان امریکہ کی بھارت اورافغانستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت سے بھی شدید پریشانی ہے۔

دوسری جانب امریکا کے نو منتخب صدر باراک اوباما نے افغان صدرحامد کرزئی کو افغانستان میں امریکی تعاون میں اضافے کا یقین دلایا ہے۔ افغان صدرکے ساتھ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ انکی اولین ترجیح خطے میں دھشت گردی کے خلاف جنگ ہوگی۔ اوباما کے ان بیانات اور امریکا افغانستان تعلقات میں مزید قربت پاکستان کے لئے کیا معنے رکھتی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں مسلسل مبینہ امریکی میزائل حملوں کے سبب عوام میں امریکہ مخالف احساسات میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اسلام آباد حکومت کی طرف سے رہ رہ کر امریکی حملوں کی مذمت اوراس کے خلاف بیان بازی میں کوئی صداقت پائی جاتی ہے؟ اس بارے میں نیو یارک سے ڈوؤچے ویلے کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے پریس ترجمان اور ڈان کے نامہ نگار مسعود حیدر نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں امریکی حملے اور کارروائیاں صدر زرداری کی اجازت سے ہو رہی ہیں۔ مسعود حیدرکے بقول’امریکیوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے امریکہ کے ساتھ یہ طے کیا ہوا ہے امریکہ اپنے حملے جاری رکھے اور پاکستانی حکومت اس پر صرف مذمتی بیان جاری کرے گی۔