کیا افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسی کا معاملہ اٹھایا جائے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسی کا معاملہ اٹھایا جائے گا؟

پاکستانی وزیر اعظم امریکا کا دورہ کر رہے ہیں۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم صدر اوباما کو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے گٹھ جوڑ سے آگا ہ کریں۔

پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہےکہ پاکستان ایک ذمہ دار اور خود مختار جوہری ریاست ہے جس کے جوہری اثاثے فول پروف سکیورٹی انتظام کے تحت محفوظ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکا کے چار روزہ دورے پر روانگی سے قبل ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اطمینان بخش اور بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

وزیر اعظم کا یہ بیان ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کے بعد دیا گیا، جن کے مطابق امریکا پاکستان کو نیوکلیئر سپلائی گروپ میں شامل کرنے کے لیے آمادہ ہے البتہ اس کے بدلے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر بعض پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے سرکاری حکام بھی پاکستانی وزیر اعظم کے دورے کے دوران کسی ممکنہ جوہری ڈیل سے انکار کر چکے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک خود مختار اور جمہوری ملک ہونے کے ناطے دہشت گردی کے خلاف صف اوّل کے ملک کے طور پر سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’ضرب عضب کی کامیابی ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف اپنے پاکستان میں امن اور خوشحالی کے لئے نہیں بلکہ جنوبی ایشیاء اور اس خطے کو امن وترقی کا مرکز بنانے کے لئے لڑی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کی سلامتی اور خود مختاری کا احترام کرتا ہے جبکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت کسی بھی بیرونی جارحیت سے نمٹنے کے لئے ہے۔

اسی دوران سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے پاکستانی وزیر اعظم کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے زور دیا ہے کہ وزیر اعظم اپنے دورے کے دوران صدر اوباما کو پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے گٹھ جوڑ سے آگا ہ کریں۔

رحمان ملک نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اس خط کا مقصد صرف اتنا تھا کہ وزیر اعظم کو ان حقائق کی یاد دہانی کرائی جائے، جس کی وجہ سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی ہونے کے باجود مشکلات کا سامنا ہے اور اس میں "را" اور "ڈی این ایس" شامل ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ فضل اللہ کا ہے، جو اس وقت افغانستان میں چھپا ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکا سے ڈو مور کیا مطالبہ کرنا چاہیے۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا دورہ امریکا میں افغانستان اور خصوصاﹰ افغان طالبان کے ساتھ امن مذکرات جاری رکھنے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار طاہر خان کا کہنا تھا، ’’پاکستان کی پوزیشن روز اوّل سے یہی رہی ہے کہ افغان امن عمل جاری رہنا چاہیے جو اس وقت تعطل کا شکار ہے جبکہ پاکستان کے افغانستان کی قیادت کے ساتھ بھی تعلقات میں تناؤ ہے۔ تو یقیناﹰ پاکستانی وزیراعظم ان چیزوں کا زکر ضرور کریں گے جو اس موجودہ صورتحال پر افغانستان سے متعلق پاکستان کا مؤقف واضح کر سکیں۔‘‘

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف امریکی صدر باراک اوباما کی دعوت پر بیس تا تئیس اکتوبر امریکا کا چار روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ وزیر اعظم نواز شریف کا امریکا کا دوسرا دوطرفہ دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ اکتوبر دو ہزار تیرہ میں امریکا گئے تھے۔

بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اپنے دورہ امریکا کے دوران امریکی صدر اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ دلچسپی کے وسیع البنیاد امور پر بات چیت کریں گے۔

اس کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم امریکی کابینہ اور سینٹ کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ مستقبل میں تعاون کے لئے مزید شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاک امریکا بزنس کونسل کے اجلاس میں شرکت اور پاکستانی کمیونٹی کے علاوہ امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے بھی خطاب کریں گے۔