1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا افغانستان کے سارے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے؟

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں بھارت اور افغانستان نے اپنی تنقید کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف کیا تھا۔ کیا واقعی پاکستان افغانستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار ہے؟

Infografik Zufriedenheit mit der Regierung Ghani in Afghanistan Englisch

افغانستان میں کروائے جانے والے ایک سروے کے نتائج، جس میں شہریوں سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ غنی حکومت سے مطمئن ہیں؟

اتوار کو بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں ختم ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران افغان صدر اشرف غنی نے ایک طالبان رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر افغان طالبان ایک ماہ بھی نہیں چل سکتے۔ غنی کا مزید کہنا تھا، ’’میں الزام تراشی کا کھیل نہیں چاہتا لیکن وضاحت چاہتا ہوں کہ دہشت گردی کی برآمد کو روکنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟‘‘
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ امان میمن نے بھارت و افغانستان کے الزامات پر اپنا نقطہء نظر دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’افغان حکومت کی ایک اپنی ہی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے، جو مداخلت ہورہی ہے وہ سترہ فیصد ہے، جب کہ وسطی ایشیا کے کچھ ممالک میں ایسے عناصر موجود ہیں، جو طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ طالبان کو مقامی آبادی کے کچھ حصوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وسطی افغانستان کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے؟ کیا وہاں پاکستان کا کوئی اثر ورسوخ ہے؟ جواب نفی میں ہے لیکن پھر بھی قندوز پر طالبان نے کیسے قبضہ کر لیا تھا؟ اب ان کی کارروائیاں وسطی اور بعض اوقات شمالی افغانستان میں بھی ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ صورتِ حال اتنا سادہ نہیں، جتنی سادہ سمجھی جاتی ہے۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’افغان سیاستدانوں، جیسے کہ حامد کرزئی، اُن کے بھائی اور رشید دوستم وغیرہ پر بد عنوانی کے کئی سنگین الزامات ہیں۔ کیا پاکستان اُن کو کہہ رہا ہے کہ بد عنوانی کرو اور بیرونی امداد کا پیسہ افغان عوام پر خرچ نہ کرو۔ اس کے یہ مطلب نہیں کہ پاکستان وہاں کچھ نہیں کر رہا۔ میرے خیال میں پاکستان کو افغان طالبان کی یا تو حمایت ترک کر دینی چاہیے یا پھر ان کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے۔ پاکستانی مداخلت افغانستان کے مسائل کا صرف ایک پہلو ہے۔ افغانستان میں مسائل کے اور بھی کئی اسباب ہیں، جن کا حل خطے کے ممالک، افغان عوام اور بین الاقوامی برادری کو مل کر نکالنا چاہیے۔ محض الزام تراشی سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر پاکستان پر کی جانے والی سخت تنقید کے حوالے سے نیشنل یونیورسٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام کے ڈاکڑ بکر نجم الدین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’افغانستان کے سارے مسائل کا الزام پاکستان پر ڈال دینا کوئی حقیقت پسندانہ بات نہیں ہے۔ عالمی برادری نے اس جنگ زدہ ملک میں کئی سو ملین ڈالرز خرچ کیے۔ کئی بین الاقوامی اداروں کی رپورٹیں اس بات کی شاہد ہیں کہ افغانستان کو ملنے والی اربوں ڈالرز کی امداد میں غبن پاکستان نے نہیں کیا بلکہ افغان سیاست دانوں نے کیا، جس سے ملکی مسائل میں گوں نہ گوں اضافہ ہوا۔ کیا افغانستان کے اندر پختون اور غیر پختون کے درمیان مسائل نہیں ہیں؟ کیا اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان شدید سیاسی اختلافات نہیں ہیں؟ کیا افغانستان کی نوکر شاہی اور فوج میں پختونوں کی نمائندگی ان کی آبادی میں شرح کے مطابق ہے اور اگر یہ نمائندگی شرح کے مطابق نہیں ہے تو کیا اس سے افغان معاشرے میں سیاسی و سماجی مسائل جنم نہیں لے رہے؟‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’افغان طالبان کو مختلف ذرائع سے مدد مل رہی ہے اور اگر پاکستان ان کے لئے اپنی حمایت تر ک بھی کر دے تو بھی وہ لڑتے رہیں گے۔ میرے خیال میں افغان حکومت اور مختلف جنگجو سرداروں سے نالاں عناصر بھی افغان طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ افغان ریاست کی نااہلی کا فائدہ بھی اس شدت پسند گروپ کو ہو رہا ہے۔ تو سارا الزام پاکستان پر ڈالنے سے پہلے کابل انتظامیہ کو یہ سارے مسائل بھی دیکھنے پڑیں گے۔‘‘
اس سوال پر کہ اشرف غنی کو تو پاکستان نواز کہا جاتا تھا، ڈاکڑ بکر نے کہا، ’’افغانستان میں ایک کمزور حکومت ہے۔ اشرف غنی نے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنی کی کوشش کی تھی لیکن اندورنی دباو کی وجہ سے اب وہ پاکستان مخالف موقف اپنا رہے ہیں، جو نئی دہلی کی سوچ کے قریب ہے۔ اسی لئے بھارتی حکومت اس موقف کی حمایت کر رہی ہے اور پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
وزیرِ اعظم کے ترجمان محمد مصدق نے اس تنقید کے حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پہلے ہی حکومت کا نقطہء نظر دے چکے ہیں۔ ہم خطے میں امن و استحکام کے لئے کوشاں ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کا محور ہی امن ہے لیکن اس امن کے لئے ضروری ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل پر بات چیت کی جائے، جس میں مسئلہ کشمیر بھی ہے۔‘‘