1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا افغانستان میں کریمینل جسٹس سینٹر بدعنوانی ختم کر سکے گا؟

افغانستان میں انسداد بدعنوانی کے لیے قائم مرکز میں آج منگل کے روز عوامی سطح پر پہلی سماعت ہوئی۔ اسے ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جاتا ہے۔ افغانستان کا شمار دنیا کے بدعنوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے احکامات پر انسداد بدعنوانی کے لیے کریمینل جسٹس سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ اس کے قیام کا ایک مقصد بااثر اور امیر ترین بدعنوان افراد تک پہنچنا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔ افغانستان میں بدعنوانی کی نگرانی کے لیے قائم ایک غیر جانبدار کمیٹی کے چیئرمین یاما ترابی کہتے ہیں، ’’لوگوں کو حاصل استثنیٰ کے خاتمے کے لیے یہ ایک بہت ہی اہم قدم ہے۔ اس طرح اب اعلٰی عہدوں پر فائز ان افراد، سرکاری افسران اور سابق وزراء تک بھی پہنچا جا سکے گا، جن پر اس سے قبل ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں تھا۔‘‘

افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ برس مئی میں بین الاقوامی برادری سے اس طرح کے مرکز کے قیام کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے سربراہ ایک بتیس سالہ جج محمد الیف عرفانی ہیں۔ ان کا دفتر  پولیس کے خصوصی دستوں کے مرکز اور انسداد منشیات کے ادارے کے درمیان واقع ہے اور اس عمارت کی حفاظت کے لیے مسلح افراد تعینات ہیں۔ عرفانی دو بچوں کے باپ ہیں۔ دو محافظوں اور افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کو ان کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عرفانی کہتے ہیں کہ انہیں ابھی تک براہ راست کوئی دھمکی تو موصول نہیں ہوئی، ’’لیکن ابھی تو ابتدا ہے۔ جب بھی کسی بڑی شخصیت پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو دباؤ میں بتدریج اضافہ ہو گا۔‘‘ اس تناظر میں انہوں نے اُن پولیس اہلکاروں کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز ٹیلی فون کالوں کا ذکر بھی کیا، جنہوں نے وزارت دفاع میں ایک فوجی جنرل کو حراست میں لیا تھا۔

یاما ترابی کے بقول، ’’مجھے اس تناظر میں دو مختلف قسم کے خطرات محسوس ہو رہے ہیں۔ ایک تو حکومت میں ہی شامل کچھ افراد اس مرکز کے خلاف کام کریں گے اور دوسرا خطرہ طالبان ہیں، جو حکومت کو مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ کریمینل جسٹس سینٹر کا عملہ کل پینتیس افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے چودہ جج ہیں۔ ابھی تک اس مرکز میں پچپن مقدمات پیش کیے جا چکے ہیں، جن میں سے درجنوں مقدمات کے ملزم کُل اکتیس افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

آج عوامی سطح پر ہونے والی پہلی سماعت میں افغانستان میں موجود غیر ملکی مبصرین بھی موجود تھے۔ ان میں اُن ملکوں کے سفارت کار بھی شامل تھے، جنہوں نے اس مرکز کے قیام میں مالی تعاون کیا ہے اور ان میں امریکا، برطانیہ اور ہالینڈ نمایاں ہیں۔