1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیا آپ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو جانتے ہیں؟

کرسچين ڈیموکریٹک یونین ( سی ڈی یو) کی سربراہ انگیلا میرکل کون ہیں؟ روئٹرز کے صحافی آندریاس رنکے نے جرمن انتخابات سے قبل اپنی کتاب میں یورپ کی سب سے با اثر خاتون کی نجی اور سیاسی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل کے حوالے سے تمام تر معلومات ’’میرکل انسائیکلوپیڈیا ‘‘ چانسلر فروم اے ٹو زیڈ نامی کتاب میں موجود ہے۔ اس کتاب میں میرکل کی نجی اور سیاسی زندگی کے حوالے سے تمام سوالات کے جوابات درج ہیں۔ مثال کے طور پر کیا میرکل شراب نوشی کرتی ہیں؟ یا کیا انہیں غصہ آتا ہے؟ مہاجرین کے حوالے سے میرکل کی پالیسی کیا ہے؟ میرکل کا ’’ہم کامیاب ہوں گے‘‘ جملہ کہاں سے آیا؟

تقریباً ساڑھے چار سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا یا قاموس کی طرح ہے، جس میں درج معلومات کے کم از کم بارہ سو مختلف حوالہ جات ہیں۔ یہ کتاب جرمن صحافی آندریاس رنکے کا منفرد شاہکار ہے۔ رنکے تاریخ دان بھی ہیں اور وہ گزشتہ سولہ برس سے میرکل کے بارے معلومات اکھٹی کر رہے ہیں۔ رنکے برلن میں روئٹرز کے سیاسی امور کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے اسٹیفن ڈیگے نے رنکے سے پوچھا کہ میرکل چانسلر شپ کے دوران انتہائی مقبول ہو چکی ہیں۔ دنیا کو اس کتاب کی کیا ضرورت ہے؟

آندریاس رنکے: دنیا کو اس کتاب کی اس لیے ضرورت ہے کیونکہ اس میں میرکل کی شخصیت کو بطور سیاست دان اور انسان انتہائی مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اس کتاب کو کسی سوانح حیات کے بجائے لغت یا انسائیکلوپیڈیا کی طرز پر مرتب کیا ہے۔ گزشتہ برس یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ ابھی بھی بہت سے لوگ کے ذہنوں میں میرکل کے حوالے مختلف سوالات ابھر رہے ہیں، کہ یہ خاتون کس طرح سے کام کرتی ہے؟ ان کے فیصلے لینے کا پیمانہ کیا ہے؟ تاہم مہاجرین کے بحران کے دوران یہ موضوعات تو اور بھی واضح انداز میں سامنے آئے ہیں۔

’ہم یہ کر سکتے ہیں‘ میرکل کا مہاجرین کے لیے منتر آج بھی زندہ

میرکل کے حریف سوشل ڈیموکریٹ مارٹن شلُس کون ہیں؟

کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بارے میں اہم حقائق

آپ کے خیال میں وہ کیا چیز ہے جو میرکل کے لیے محرک کا کام کرتی ہے؟

آندریاس رنکے: اگر ہم مہاجرین کے بحران پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ دو یا تین ایسی متحرک قووتیں تھیں، جو ان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوئی تھیں۔ ایک تو یورپ کو متحد رکھنے کی خواہش۔ میرے خیال میں یہی وہ سبب تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے سرحدیں بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ میرکل کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو یورپ بھر میں اس کا اثر ہو گا اور تمام ممالک اپنی سرحدیں بند کر دیں گے۔ ساتھ ہی ان کے مسیحی عقائد اور بطور انسان ان کی ذمہ داریاں بھی ان کے اس فیصلے پر اثر انداز ہوئے۔ میرکل بارہا کہہ چکی ہیں کہ یہ امدادی انتظامات ماضی کی طرح آج بھی عارضی ہیں، ’’امیر ممالک جیسے جرمنی اور یورپی یونین کو مدد کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘

آپ نے اپنی کتاب میں مختلف حروف تہجی سے میرکل کی شخصیت کو بیان کیا ہے، آپ کے خیال میں میرکل کے لیے سب سے موزوں کون سا حروف تہجی ہے؟

آندریاس رنکے: اس کا جواب مشکل ہے۔ ایک آزاد مبصر اور صحافی کے طور پر کوئی بھی کسی شخص کو مکمل طور پر بیان نہیں کر سکتا۔ ہم صرف ایک خاص فاصلے سے اس شخص کو دیکھتے ہوئے اس کے طرز عمل کو جانچ سکتے ہیں۔ تاہم مجھے چانسلر شپ کے دوران بہت سے اجلاسوں اور مصروفیات کے دوران میرکل کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور اسی وجہ سے آخر میں ان اندازوں کو حقیقت کے قریب ترین کہا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کو لکھنے کا ایک مقصد بہت سے انفرادی پہلوؤں کو اکھٹے کرتے ہوئے تصویر مکمل کرنا بھی ہے۔

مجھے جو سب سے زیادہ دلچسپ بات لگی وہ یہ کہ گیارہ سال کی چانسلر شپ کے دوران میرکل نے مختلف قسم کے رویوں یا طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں سے کچھ متنازعہ بھی تھے۔ تاہم ناقدین بھی میرکل کے کچھ فیصلوں کی تعریف کرتے ہیں۔ ایک جانب میرکل کو  فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا جبکہ دوسری طرف لوگ انہیں اپنے اصولوں پر کاربند رہنے اور پاسداری کرنے والی چانسلر کے طور پر  بھی جانتے ہیں۔

گوگل میں اگر چانسلر میرکل کا نام لکھا جائے تو سب سے زیادہ یہ سوالات سامنے آتے ہیں، انگیلا میرکل کون ہیں؟ آپ اس سوال کا جواب کیسے دیں گے؟

آندریاس رنکے: میں نے اپنی چار سو صفحات پر مبنی اس کتاب میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ انگیلا میرکل ایک ایسی بہت ہی پیچیدہ سیاستدان ہیں، جن کی شخصیت کے بہت سے منفرد پہلو ہیں۔ تعمیر یا ڈھانچے اور حکومت چلانے کے معاملات میں میرکل بہت مضبوط ہیں۔ ان کے خیال میں اصولوں کے پابند ہونے میں کوئی تضاد نہیں۔ ان کے خیال میں اصولوں پر چلتے ہوئے اور اقتدار کے حصول کے دوران بھی نیک دلی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ میرکل کے پیش رو گیرہارڈ شرؤڈر بھی کچھ اسی طرح کے خیالات رکھتے تھے۔ اپنی سوچ کے مطابق چیزوں کو تبدیل کرنا طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

 

ویڈیو دیکھیے 03:13

جرمنی: میرکل کی شلس پر سبقت برقرار

DW.COM

Audios and videos on the topic