1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیا آبی تنازعات پر جامع مذاکرات کا راستہ ہموار ہو گا؟

پاکستان وبھارت کے وفود کے درمیان سندھ طاس معاہدے وآبی تنازعات کے حوالے سے آج اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہوئے ہو گئے ہیں لیکن کیا یہ بات چیت جامع مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی؟ تجزیہ نگار اس حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں دریائے چناب پر بنائے جانے والے کچھ منصوبوں پر پکال گل، لوئر کلنائی اور میار جیسے متنازعہ منصوبوں پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ کشن گنگا سمیت کئی اور آبی منصوبوں پر بھی پاکستان کے تحفظات ہیں۔
آبی امور کے ماہر عرفان چوہدری نے ان تنازعات کے حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دریائے چناب پر بننے والے ان منصوبوں کے ڈیزائن بھارت نے پاکستان کو نہیں دکھائے ہیں اور نہ ہی ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اپر انڈس میں مغربی دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی کیا صورتِ حال ہے۔ پاکستان کوئی منصوبہ موثر انداز میں بنا نہیں سکتا جب تک کہ ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ اپر انڈس میں پانی کی دستیابی یا بہاؤ کیسا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے بھارت دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ آبی تنازعات اور منصوبوں کے حوالے سے وہ پاکستان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئی دہلی تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے کیونکہ اسلام آباد کشن گنگا کا مسئلہ ثالثی عدالت میں لے جا چکا ہے۔ نئی دہلی یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ دو طرفہ بات چیت کے ذریعے آبی تنازعات کو حل کر نا چاہتا ہے۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔ بھارت پاکستان کے موقف کو ماننے کے لیے تیارنہیں ہے۔ میرے خیال میں بھارت پانی کا ہی مسئلہ حل کرنا نہیں چاہتا تو وہ دوسرے مسائل پر کیا بات چیت کرے گا۔ ان بات چیت سے کوئی جامع مذاکرات کا راستہ ہموار نہیں ہوگا۔‘‘


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’کشن گنگا کے بننے سے نیلم جہلم کے لیے پانی کا بہاؤ کم ہو جائے گا جس سے یقیناً یہ پروجیکٹ متاثر ہوگا۔ ہم نے یہ پروجیکٹ پہلے شروع کیا تھا لیکن ہم اس پر کام تیزی سے نہیں کر سکے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کس پروجیکٹ پر کام پہلے شروع ہوا اور وہ تعمیر کے کس مرحلے پر ہے۔ اس معاہدے کی کچھ شقوں میں بہت زیادہ وضاحت نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کی مختلف تشریح ہوتی ہے۔‘‘
پاکستان کی وزراتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’اگر کوئی یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہے کہ اس سے جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی تو وہ غلطی پر ہے۔ بات چیت کرنا بھارت کی مجبوری ہے کیونکہ سندھ طاس معاہدے کی دفعات میں یہ ہے کہ پہلے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے آبی تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بھارت میں پاکستان مخالف سیاست اب ان کے نظام کا حصہ بن چکی ہے۔’’پہلے مودی نے پاکستان مخالف نعرے لگا کر انتخابات جیتے۔ حا ل ہی میں ایک بار پھر پاکستان کے خلاف الزام تراشی کر کے ریاستی انتخابات جیتے اور اب ایک انتہا پسند کو بھارت کی سب سے بڑی ریاست کا وزیرِ اعلیٰ بنا دیا گیا ہے۔ بی جے پی نے ایک بھی مسلم کو وہاں الیکشن لرنے کے لیے ٹکٹ نہیں دیا۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اب انتخابات کے بعد مودی پاکستان سے مذاکرات کریں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ بی جے پی کی پوری سیاست پاکستان دشمنی پر مبنی ہے، تو وہ پاکستان سے تعلقات بہتر کر کے اپنی سیاست کا خاتمہ کیوں کریں گے۔ دور دور تک بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کی راہ ہموار ہونے امکان نہیں ہے۔‘‘


پاکستان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آبی مسائل کے حوالے سے اس کی پوزیشن مضبوط ہے اور آج وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا۔ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا، ’’کشن گنگا پن بجلی منصوبے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہے اور وہ اس پر عمل درآمد چاہتا ہے۔‘‘ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان پانی کے حوالے سے اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گیارہ اپریل سے واشنگٹن میں عالمی بینک کی زیر نگرانی کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان سکیرڑی سطح کے مذاکرات پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات پر بات چیت میں امریکا اور عالمی بینک نے بھی کردار ادا کیا۔