1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیانی نے امریکہ سے ڈرون بڑھانے کی درخواست کی تھی ، وکی لیکس کا دعویٰ

وکی لیکس پر شائع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی نئی کیبلز کے مطابق سن 2008 میں پاکستان کے فوجی سربراہ اشفاق کیانی نے ملک کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون نگرانی میں اضافے کی درخواست کی تھی۔

default

وکی لیکس پر سامنے آنے والی امریکی محکمہ خارجہ کی کیبلز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سن 2008ء میں امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر ایڈمرل ویلیم جے فیلن سے درخواست کی تھی کہ طالبان عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں (پری ڈیٹرز) کے ذریعے نگرانی میں اضافہ کیا جائے۔

وکی لیکس پر جاری ہونے والی امریکی سفارتکاروں کی کیبلز کے مطابق گیارہ فروری سن 2008 میں ،’وزیرستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کیانی نے پوچھا کہ اگر فیلن شورش زدہ علاقے میں پری ڈیٹرز (ڈرون) کے ذریعے نگرانی جاری رکھنے میں کوئی مدد کر سکیں‘۔

Pakistan Armeechef General Ashfaq Pervez Kiani und Rao Qamar Suleman

فوجی ترجمان کے مطابق سوات، مالاکنڈ اور وزیرستان آپریشن میں آرمی اور فضائیہ نے حصہ لیا

واضح رہےکہ پری ڈیٹرز بغیرپائلٹ اڑنے والے ایسے امریکی جاسوس طیارے ہیں، جو اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستانی قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر انہی طیاروں کے ذریعے میزائل حملے کیے جاتے ہیں۔ اب تک ان حملوں میں سینکڑوں عسکریت پسند اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان جہازوں کی پاکستانی حدود میں کارروائیوں کو پاکستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت ملکی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ان کیبلز کے متن سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔ پاکستان کے ایک انگریزی اخبار ڈان نیوز کے مطابق فوج کے شعبہ اطلاعات عامہ کے ایک ترجمان نے ان تمام خبروں کو یکسر مسترد کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ’ماضی میں امریکہ سے کچھ علاقوں میں جاسوسی کے لیے تکنیکی مدد لی گئی، تاہم کسی بھی علاقے میں مسلح ڈرون کی مدد طلب نہیں کی گئی‘۔

فوجی ترجمان کے مطابق سن 2008 اور 2009 ء میں سوات اور مالاکنڈ میں آپریشن راہ راست اور وزیرستان ایجنسی میں آپریشن راہ نجات کے دوران امریکہ سے تکنیکی مدد بھی طلب نہیں کی گئی تھی اور یہ آپریشن سراسر پاکستانی آرمی اور فضائیہ کی مشترکہ کارروائی تھی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس