1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کہیں لکیریں ہیں آنسوؤں کی، کہیں پہ خونِ جگر کے دھبے

گزشتہ برس پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے میں 132 بچوں سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد کہیں زیادہ ہوتی، اگر باہمت پرنسپل طاہرہ قاضی اپنی موت سے پہلے بہت سے بچوں کی جانیں نہ بچاتیں

طاہرہ قاضی نے اپنی جان دے کر کئی بچوں کی زندگیاں بچائیں۔ اس اسکول پر حملہ شروع ہونے کے ایک گھنٹے بعد تک طاہرہ قاضی بچوں کی جان بچانے کے لیے جدوجہد کرتی رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی آخری سانس تک یہ کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو دہشت گردوں کے ہلاکت خیز جنون سے بچا سکیں۔ اس حملے کے وقت انہیں اس اسکول سے منسلک ہوئے 20 برس اور آرمی پبلک اسکول و کالج پشاورکی پرنسپل کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے آٹھ برس ہو چکے تھے۔

اب جب کہ اس حملے کا ایک سال پورا ہونے کو ہے، یہ بات اور بھی اہم ہو چکی ہے کہ پرنسپل طاہرہ قاضی نے بچوں کو بچانے کے لیے کیا کچھ کیا۔ اس بارے میں آج جو بہت سی معلومات منظر عام پر آ چکی ہیں، وہ ان کے بیٹے احمد قاضی نے اپنی ذاتی کوششوں اور کئی مختلف حوالوں سے جمع کیں۔ بہت جذباتی نوعیت کی ان ہوش ربا تفصیلات کے بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں احمد قاضی نے جو کچھ بتایا، وہ اس خوفناک حملے اور طاہرہ قاضی کی بطور ایک ماں اور پرنسپل کے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی جانے والی کوششوں کے کئی نئے پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

طاہرہ قاضی نے اپنی جان دے کر کئی بچوں کی زندگیاں بچائیں

طاہرہ قاضی نے اپنی جان دے کر کئی بچوں کی زندگیاں بچائیں

احمد قاضی نے یہ حقائق حملے کے دوران وہاں موجود بچوں، تدریسی عملے کے ارکان اور کئی دیگر بچوں کے والدین سے حاصل ہونے والی تفصیلات کی صورت میں جمع کیے۔ انہوں نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’جس وقت دہشت گردوں نے حملہ کیا، میری والدہ آڈیٹوریم میں ہی تھیں۔ جب انہیں حملے کا پتہ چلا، تو وہ فوراﹰ چھوٹے بچوں کے اسکول ونگ کی طرف بھاگیں۔ وہاں سے انہوں نے بہت سے بچوں اور ٹیچرز کو نکالا اور اسکول ونگ کی سیکشن ہیڈ کو بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپ کر واپس کالج ونگ کی طرف گئیں۔ تب کئی ٹیچرز انہیں یہ کہتی رہیں، ’’آپ ہمارے ساتھ چلیں۔‘‘ لیکن میری والدہ نے کہا کہ وہ اس اسکول کے آخری بچے کے ساتھ ہی وہاں سے نکلیں گی۔‘‘

اسکول ونگ کی سیکشن ہیڈ کو بچوں کی ذمہ داری سونپ کر انہوں نے کچھ دیر اسکول کے عین وسط میں کھڑے ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ انہیں اب کس طرف جانا ہے۔ احمد قاضی کہتے ہیں، ’’مجھے کچھ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے پرنسپل کو پریشانی کی حالت میں کھڑے دیکھا۔ وہ یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھیں کہ انہیں کدھر جانا چاہیے۔ چند لمحے سوچنے کے بعد وہ اسکول کے ایڈمن بلاک کی طرف چلی گئیں۔ ایڈمن بلاک پہنچ کر بھی وہ بلند آواز میں بچوں کو کلاس رومز میں چھپنے کے لیے کہتی رہیں۔‘‘

تب اسکول کے اسی انتظامی بلاک میں امتحانات کے لیے استعمال ہونے والے ہال میں ایک چپڑاسی بھی چھپا ہوا تھا۔ اس چپڑاسی نے بعد ازاں احمد قاضی کو بتایا کہ وہاں پر طاہرہ قاضی کا ایک دہشت گرد سے آمنا سامنا ہوا، تو انہوں نے اسے کہا، ’’یہ لو میرا فون، کسی سے بھی بات کر لو۔ لیکن بچوں کو چھوڑ دو۔ لیکن وہ دہشت گرد ان سے پوچھ رہا تھا کہ اسکول کے دیگر بچے کہاں ہیں؟ جب طاہرہ قاضی نے اس عسکریت پسند کو کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا، تو اس نے ان کے سر میں گولی مار دی۔ طاہرہ قاضی کا موقع پر ہی انتقال ہو گیا تھا۔ پھر وہاں ایک دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں آگ لگی اور ان کی لاش جھلس گئی تھی۔‘‘

طاہرہ قاضی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ

طاہرہ قاضی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ

احمد قاضی نے مزید بتایا، ’’حملے کے ایک گھنٹے بعد تک میری والدہ اسکول میں ہی رہیں۔ ان کی ٹیلی فون کالز کے ریکارڈ کے مطابق وہ اس بھاگ دوڑ کے دوران کئی والدین اور فوجی افسران کو فون بھی کرتی رہیں۔ لیکن اس عرصے کے دوران انہوں نے اپنے گھر میں کسی سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ اس اسکول اورکالج کو کافی عرصے سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ میری والدہ کو خدشہ تھا کہ کہیں اسکول میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آ جائے۔ اسی لیے وہ تمام بچوں کو ان کے گھروں کو بھجوا کر ہی اسکول سے گھر لوٹتی تھیں۔‘‘

ڈی ڈبلیو کے ساتھ اس انٹرویو میں احمد قاضی اپنی بہادر والدہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کئی مرتبہ کافی جذباتی بھی ہو گئے اور ان کے لیے اپنے بیان کا تسلسل قائم رکھنا مشکل تھا۔ انہوں نے کہا، ’’میری والدہ کبھی کبھی کہا کرتی تھیں، تم دنیا کے سب سے اچھے بیٹے ہو۔‘‘ لیکن آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میری والدہ دنیا کی سب سے بہترین ماں تھیں۔‘‘

پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد حکومت پاکستان نے طاہرہ قاضی کو ان کی ہمت اور فرض شناسی کی بدولت بعد از موت ستارہء شجاعت کے اعلیٰ اعزاز سے بھی نوازا تھا۔