1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کہيں بارڈر کنٹرول بڑھانے کی بات، تو کہيں گھٹانے کی : معاملہ ہے کيا؟

جرمن وزير داخلہ نے خبردار کيا ہے کہ اٹلی اپنی سرزمين سے پناہ گزينوں کو آسٹريا اور جرمنی کی جانب نہ بھيجے، بصورت ديگر شمالی يورپ اور جنوبی يورپ کو ملانے والی ايک اہم گزرگاہ پر نگرانی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا، ’’اٹلی اس پر دارومدار نہيں کر سکتا کہ برينر کی گزرگاہ ہميشہ کھلی رہے گی۔‘‘ جرمن وزير داخلہ نے يہ بيان اپنے دورہ آسٹريا کے موقع پر ’او آر ايف‘ نامی ايک ٹيلی وژن اسٹيشن پر منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ديا۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ روم حکومت پہلے کی طرح لوگوں کو شمالی يورپ کی جانب بھيجنا جاری نہيں رکھ سکتی۔

يورپ ميں موسم خزاں اور پھر موسم گرما کی آمد کے ساتھ ساتھ اٹلی مہاجرين کی ايک نئی لہر کی آمد کی توقع کر رہا ہے۔ امکاناً يہ پناہ گزين شمالی افريقہ کے ليبيا جيسے ملکوں سے بحيرہ روم پار کرتے ہوئے اٹلی پہنچ سکتے ہيں۔ اسی تناظر ميں ويانا حکومت کی جانب سے کہا گيا ہے کہ ضرورت پڑنے پر سامان کی منتقلی کے ليے اٹلی اور شمالی يورپ کے درميان برينر کی اہم گزرگاہ پر اضافی سکيورٹی کے نفاذ کی تيارياں جاری ہيں۔ آسٹرين حکام کے مطابق اگر برينر کراسنگ پر آمد و رفت ميں اضافہ نوٹ کيا جاتا ہے تو گاڑيوں کی چيکنگ، رکاوٹيں کھڑی کرنا اور باڑ نصب کرنے جيسے اقدامات کيے جا سکتے ہيں۔

اٹلی اور شمالی يورپ کے درميان برينر کی اہم گزرگاہ پر اضافی سکيورٹی کے نفاذ کی تيارياں جاری ہيں

اٹلی اور شمالی يورپ کے درميان برينر کی اہم گزرگاہ پر اضافی سکيورٹی کے نفاذ کی تيارياں جاری ہيں

جرمن وزير داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اميد کرتے ہيں کہ ايسے اقدامات کے حق ميں فيصلہ نہ کرنا پڑے تاہم اس کا دارومدار اطالوی حکومت کے رويے پر ہو گا۔ ان کے بقول آسٹريا ميں انہيں حکومت کے منصوبوں سے آگاہ کر ديا گيا ہے۔

حال ہی ميں جرمن وزير داخلہ ڈے ميزيئر نے اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ چند ماہ پہلے آسٹريا سے جرمنی ميں داخل ہونے والے تارکين وطن کی تعداد ہزاروں ميں تھی، جو مارچ ميں يوميہ 140 تک محدود ہو گئی تھی۔ منگل کے روز جاری کردہ آسٹريئن وزارت داخلہ کے ايک بيان کے مطابق آسٹريا سے جرمنی ميں داخل ہونے والوں کی تعداد اب صفر ہو گئی ہے۔ اس پيش رفت کے بعد ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ اگر جرمنی ميں داخل ہونے والوں کی تعداد اسی طرح محدود رہتی ہے، تو ٹريفک جام اور آسٹريا سے جرمنی پہنچنے والوں کی برہمی کا سبب بننے والے سخت بارڈر کنٹرول عنقريب ختم کر ديا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’تازہ اندازوں کے مطابق اگر نئے آنے والوں کی تعداد اسی طرح کم رہتی ہے، تو بارہ مئی کے بعد سے بارڈر کنٹرول جاری نہيں رکھے جائيں گے۔‘‘ تاہم انہوں نے واضح کيا کہ جرمنی اس رجحان ميں تبديلی کے ليے بھی تياری کرنا چاہتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات