1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کہر یا دھند سے پانی کشید کرنے کا منصوبہ

کُہر یا دھند کے بارے میں یہ تو ہم جانتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ارد گرد کا ماحول دھندلا جاتا ہے مگر سائنسدان اب اس سے سینکڑوں لیٹر پانی حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور وہ بھی پینے کے قابل بہترین معیار کا۔

default

جرمنی میں ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بنجر اور ریگستانی علاقوں میں خصوصی Nets یعنی جالوں کے ذریعےدھند سے پانی حاصل کرکے اسے پینے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کسی دور میں لندن دھند والے شہر کی شہرت رکھتا تھا مگر تب بھی یہاں اتنی دھند نہیں ہوتی تھی جتنی کے جنوبی چلی کے ایکوایکوے Iquique نامی علاقے میں۔ اسی وجہ سے یہ جگہ کہر پر تجربات کرنے والے سائنسدانوں کی جنت بنا ہوا ہے۔ ایسے ہی ایک سائنسدان پروفیسر اوٹو کلَیم کے مطابق: "وہاں بہت ہی گہری دھند ہوتی ہے، جو کہ پانی حاصل کرنے کے لئے آئیڈیل ہے۔"

BdT Deutschland Wetter Nebel in Münstertal

بادل جب پہاڑی علاقے سے گزرتے ہیں تو پہاڑی سلسلے کی وجہ سے دھند اس علاقے میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔

کلیم جرمنی کی مؤنسٹر یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف لینڈ اسکیپ ایکولوجی میں کام کرتے ہیں۔ دھند سے پانی حاصل کرنے کا مقصد ویسے تو صرف سائنسی تجربات کے لئے پانی حاصل کرنا تھا۔ مگر ان کے اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے جنوبی امریکہ اور دنیا کے دیگر مقامات پر اس مقصد کے لئے لگائے گئے بڑے بڑے نیٹوں سے پینے کے لئے بھی پانی حاصل کیا جارہا ہے۔

یہی معاملہ جرمنی کے شہر مؤنسٹر میں دھند اور دھند سے پانی حاصل کرنے کے موضوع پر ہونے والی پانچویں بین الاقوامی کانفرنس میں بھی زیر بحث آیا۔ اس کانفرنس میں دنیا کے 30 ممالک سے کہر پر کام کرنے والے 140 ماہرین پہلی مرتبہ یورپ میں جمع ہوئے۔

ایٹاکاما نامی صحرا کے ایک سرے پر واقع ایکوایکوے Iquique جیسے دنیا کے خشک علاقوں میں دھند کی موجودگی ایک ایسی حقیقت ہے جو آنے والی نسلوں کے لئے بہت اہم ثابت ہوگی۔ پروفیسر اوٹو کلَیم کے مطابق ریگستانی دھند سے ایسے علاقوں کے لئے پانی حاصل کیا جاسکتا ہے، جہاں یہ کمیاب ہے یا جہاں مستقبل میں پانی کی قلت ہوسکتی ہے۔کلیم کے مطابق وہ جنوبی امریکہ یا افریقہ کی بات نہیں کررہے بلکہ ایسے ملکوں کی ایک مثال سپین بھی ہے جوکہ شاید آنے والے 50 سے ایک سو برس کے دوران پانی کی قلت کا شکار ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سپین دریاؤں کا رُخ موڑنے اور سمندر سے پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹس بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

Universität Münster

جرمنی کی مؤنسٹر یونیورسٹی

کلیم کے مطابق سپین میں کچھ علاقے ایسے ہیں، جہاں دھند کافی ہوتی ہے مثال کے طور پر سپین کے مشرقی ساحلی علاقے ویلنسیا میں ایک پہاڑی سلسلہ موجود ہے جو کہ سمندر کے قریب ہے۔ سمندر کے اوپر بننے والے بادل جب زمینی علاقے سے گزرتے ہیں تو اس پہاڑی سلسلے کی وجہ سے دھند اس علاقے میں پھنس کر رہ جاتی ہے۔ اس دھند سے بہت آسانی سے کافی مقدار میں پینے کا پانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کلیم کا خیال ہے کہ دھند سے اس طرح حاصل کردہ پانی سے بڑے پیمانے پر پانی کی قلت کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

تاہم ایک جرمن فلاحی تنظیم واٹر فاؤنڈیشن پانی کے ایک ذریعے کے طور پر دھند کو بہت اہمیت دے رہی ہے۔ اس فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار ارنیسٹ فراسٹ Ernst Frost کے مطابق چند برس قبل ہماری اس سوچ پر لوگ ہنستے تھے، تاہم اب ہم اس ذریعے سے اریٹیریا کے بعض سکولوں اور چھوٹے کسانوں کو ضروریات کے لئے پانی فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ فراسٹ کے مطابق دھند کے موسم میں اس مقصد کے لئے تیار کئے گئے ایک نیٹ کے ذریعے روزانہ 170 لٹر پانی حاصل کیا جاسکتا ہے، جو کہ ایک بڑے خاندان کی تمام تر ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس