1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کھیل کا میدان، سپر سٹارز کی واپسی

موٹر ریسنگ کے فارمولا ون مقابلوں میں سات مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے والے مشاعیل شوماخر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے تین سال بعد ابھی چند ماہ قبل ہی موٹر ریسنگ کی دنیا میں واپسی کا فیصلہ کیا تھا۔

default

مشاعیل شوماخرموجودہ ویک اینڈ پر بحرین میں ہونے والی گراں پری ریس میں حصہ لیں گے، جو فارمولا ون کے امسالہ سیزن کی پہلی دوڑ ہو گی۔

مشاعیل شوماخر سے پہلے بھی کھیلوں کے مختلف شعبوں میں کئی عظیم کھلاڑی اسی طرح اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کھیل کے میدان کا رخ کر چکے ہیں۔

لانس آرمسٹرونگ: ٹور دی فرانس سائیکل ریس کے سات مرتبہ فاتح ہونے کا اعزاز رکھنے والے 37 سالہ لانس آرمسٹرونگ گزشتہ برس کھیل کی دنیا میں واپس آئے۔

ایلاں پروسٹ: فارمولا ون کے انتہائی کامیاب ڈرائیور جن کی موٹر ریسنگ کے سرکٹ پر واپسی ان کی ریٹائرمنٹ کے ایک سال بعد1992 میں پوئی تھی۔

Flash-Galerie Handschuhe

محمد علی 1981ء میں دوبارہ رنگ میں اترے تھے

‍مایئکل جورڈن: باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑی جنہوں نے پہلے ایک پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر باسکٹ بال کو خیر باد کہا اور پھر 17 ماہ بعد 1995ء میں انہوں نے اپنا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیا۔

محمد علی: باکسنگ کی دنیا کا یہ بے تاج بادشاہ 39 برس کی عمر میں دو سال تک باکسنگ رنگ سے دور رہنے کے بعد 1981ء میں دوبارہ رنگ میں اترا تھا۔

جارج فورمین: یہ امریکی باکسر 45 برس کی عمر میں 12 سال کے وقفے کے بعد 1994ء میں دوبارہ ایک پیشہ ور باکسر کے طور پر رنگ میں اترا تھا۔

پیلے: فٹبال کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے پیلے 1974ء میں چھ ماہ تک اس کھیل سے الگ رہنے کے بعد دوبارہ فٹبال کے میدان میں اترے تھے۔

کاتارینا وٹ: فگر اسکیٹنگ کے کھیل میں دنیا کی کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والی اس جرمن خاتون نے 23 سال کی عمر میں فگر اسکیٹنگ کو خیر باد کہا لیکن چھ سال بعد وہ دوبارہ پروفیشنل اسکیٹنگ کرنے لگی تھیں۔

Muhammad Ali vs George Foreman 1974 Flash-Galerie

فورمین ایک تاریخی مقابلے کے دوران

بیورن بورگ: ٹینس کے اس سویڈش کھلاڑی نے اس وقت اس کھیل کے شائقین کو حیران کر دیا جب اس نے صرف پچیس سال کی عمر میں اس کھیل کو خیرباد کہا لیکن 90 کی دہائی میں بورگ ایک بار پھر ٹینس کورٹ پر واپس آ گئے تھے۔

مارٹینا نیوراٹیلووا: اس خاتون کھلاڑی نے1994ء میں ٹینس کو خیرباد کہا اور وہ چھ سالہ وقفے کے بعد دوبارہ ایک جارحانہ انداز میں کامیابی کے ساتھ اس کھیل سے وابستہ ہو گئی تھیں۔

مارٹینا ہنگِس: ٹینس کی دنیا پر راج کرنے والی اس ورلڈ نمبر ون کھلاڑی نے 23 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لے لی لیکن تین سال بعد وہ ایک بار پھر ٹینس کے میدان میں واپس آگئی تھیں۔

کم کلائسٹرز: سابقہ عالمی نمبر ون اس خاتون کھلاڑی نے 2007 میں ٹینس کے کھیل سے علیحدگی اختیار کی لیکن دو سال بعد اپنا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے دوبارہ کھیلنا شروع کیا۔

جسٹن ہینن: ٹینس کی دنیا کی اس انتہائی کامیاب خاتون کھلاڑی نے مئی 2008ء میں اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ گزشتہ برس ایک بار پھر کھیل کے میدان میں اتریں اور اتنی کامیابی سے کہ سب کو حیران کر دیا۔

رپورٹ: بخت زمان

ادارت: عاطف بلوچ