1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کھلے سمندروں میں دہشت گردی کا اندیشہ

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ ابھی تک تو مختلف ملکوں میں مختلف انداز میں لڑی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دہشت گرد گروپ اگلے مہینوں کے دوران کھلے سمندروں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

default

سن 2002 کے بعد سے مختلف ملکوں کی ساحلی پٹیوں پر دہشت گردانہ واقعات کو رپورٹ کیا جا چکا ہے۔ کمرشل اور مال بردار بحری جہازوں کی قزاقی بھی آج کل خبروں میں ہے لیکن اب ایسے اندیشے سر اٹھانے لگے ہیں کہ القاعدہ یا طالبان جیسے منظم دہشت پسندانہ گروپ اگلے چند ہفتوں بعد کھلے سمندروں میں کارروائیوں کا آغاز کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔ اس مناسبت سے گزشتہ ماہ ایک جاپانی بحری جہاز پر آبنائے ہرمز میں ہونے والے حملے کی تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور تاحال اس حوالے سے کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہے۔

جاپان کے بحری جہاز پرحملے کے حوالے سے ابتدا میں ایسے شکوک کا اظہار کیا گیا تھا کہ یہ بحری جہاز کوئی بڑی سمندری لہر کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ اس تصور کو اس وقت سخت دھچکا

USS Nimitz

خلیج فارس میں امریکی جنگی جہاز

پہنچا، جب القاعدہ سے وابستہ ایک غیر مقبول انتہاپسند گروپ عبد الاعظم بریگیڈ نے بعض ویب سائٹس پر بیان جاری کیا کہ جاپانی بحری جہاز کو نقصان ان کے خود کش بمبار کی کارروائی سے پہنچا تھا۔ اس بیان نے مختلف ممالک کی نیوی میں ہلچل پیدا کر دی۔ اسی مناسبت سے متحدہ عرب الامارت کی جانب سے کی جانے والی تفتیش میں بتایا گیا ہے کہ حادثے کے مقام سے جہاز کے ڈھانچے میں دیسی ساخت کے بارود کا مواد دستیاب ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی یہ تفتیشی رپورٹ دہشت گردانہ حملے کی جانب واضح اشارہ ہے۔

گزشتہ دنوں جاپان کے وزیر مواصلات ’’سیجی مائیہارا‘‘ نے اس واقعے میں قریبی ملکوں کی نیوی، کوسٹ گارڈ اور سمندر میں پٹرول کرنے والے اہلکاروں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ اس حادثے کے بارے میں جتنی معلومات رکھتے ہیں فراہم کریں تا کہ سمندروں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ آبنائے ہرمز کے راستے سے اسی فی صد تیل کے ٹینکر جاپان کے لئے گزرتے ہیں۔

دبئی کے گلف ریسرچ سینٹرکے بین الاقوامی مطالعے کے ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسچیئن کوخ کا بھی کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو اب نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور اس خطرے کو سنجیدگی سے لے کر اس بابت سکیورٹی کو بہتر کرنا ہو گا۔ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ بحرین میں تعینات ہے اور اس کی جانب اعلان کیا گیا ہے کہ سمندری سکیورٹی کے حوالے سے تفکر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خلیجی سمندری علاقے میں چوبیس ملکی سکیورٹی ہمہ وقت نگرانی میں مصروف ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس