1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کھلونا‘ تو بم تھا، جنوبی وزیرستان میں چھ بچے ہلاک

پاکستانی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بظاہر کھلونا نظر آنے والے ایک بم کے پھٹنے سے کم ازکم چھ بچے ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکت خیز دھماکا اس وقت ہوا جب ایک گاؤں میں بچوں نے کھلونا سمجھ کر اس بم سے کھیلنا شروع کر دیا تھا۔

شمال مغربی پاکستان میں صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق یہ سانحہ افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب پاکستان کے نیم خود مختار قبائلی علاقوں میں سے ایک جنوبی وزیرستان میں ’اسپین مارک‘ نامی گاؤں میں آج اتوار پچیس جون کے روز پیش آیا۔

ایک مقامی حکومتی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے تمام چھ بچے لڑکے تھے، جن کی عمریں چھ اور بارہ برس کے درمیان تھیں۔ اس کے علاوہ اس دھماکے کی وجہ سے دو بچے شدید زخمی بھی ہوئے، جن کی حالت تشویشناک ہے۔‘‘

ہمیں واپس جانے کی اجازت دی جائے، بے گھر قبائلی

روسی فوجی پاکستانی قبائلی علاقوں میں

شمالی وزیرستان میں جنگی طیاروں سے حملے، ’درجنوں شدت پسند ہلاک‘

اس پاکستانی قبائلی علاقے میں ایک اور مقامی اہلکار نے بھی ایک ’کھلونا‘ بم کے پھٹنے سے چھ بچوں کی ہلاکت اور دو دیگر کے شدید زخمی ہونے کی تصدیق کر دی۔ یہ بات تاہم واضح نہیں کہ ان بچوں کے ہاتھ لگنے والا اور دیکھنے میں ’کھلونا‘ نظر آنے والا بم کس ملک کا بنا ہوا تھا یا وہاں اسے کس نے پھینکا تھا۔

Pakistan Waziristan Armee Infanterie ARCHIV

پاکستان فوجی دستے گزشتہ چند برسوں سے متعدد قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح آپریشن میں مصروف ہیں

جنوبی وزیرستان کے بےگھر افراد کی واپسی

ضرب عضب کا حتمی مرحلہ اور متاثرین کی مشکلات

ایک ملین پاکستانی آئی ڈی پیز انتہائی ابتر حالات میں

پاکستان کے شمال مغرب میں ماضی میں بھی درجنوں بچے ایسے بموں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اپنی جانیں کھو چکے ہیں، جو بظاہر کھلونوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں، جس کی قومی سرحدیں پاکستانی قبائلی علاقوں سے بھی ملتی ہیں، سوویت یونین کے دستوں نے اپنی فوجی مداخلت کے دور میں اپنے مخالفین پر ایک باقاعدہ عسکری پالیسی کے تحت فضا سے بہت سے کھلونا بم پھینکنے کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔

جنوبی وزیرستان پاکستان میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام ان سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں ملکی فوج گزشتہ کئی برسوں سے طالبان اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔

پاکستان میں سرگرم اکثر عسکریت پسند یا شدت پسند تنظیموں نے زیادہ تر انہی قبائلی علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے تھے۔ ان میں سے کئی مقامات پر طویل فوجی آپریشن کے بعد اب متعدد علاقوں سے عسکریت پسندوں کو نکالا جا چکا ہے۔

DW.COM