1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کھانوں سے اطالوی عوام کی رغبت

’پاستا بنانے کے سالانہ مقابلے‘ گزشتہ دنوں اٹلی کے شہر بولونیا میں منعقد کئے گئے۔ اس موقع پر وہاں ایک میلے کا سا سماں تھا۔ خواتین رنگ برنگے کپڑوں میں سجی اپنی اپنی ’ڈش‘ بنانے کی تیاری کر رہی تھیں۔

default

اطالوی عوام اپنے کھانوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، اور اگر بات ’پاستا‘ کی ہو، تو ان کا رویہ اور بھی سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ رجحان اٹلی کے شہر بولونیا میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ’بولونیا چٹنی‘ اس علاقے کی وجہ سے جانی پہچانی جاتی ہے۔

بولونیا میں پاستا بنانے کے مقابلوں کو ’گولڈن رولنگ پِن‘ کا نام دیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں وہاں مقابلے میں شریک خواتین نے بتایا:’میں یہاں گزشتہ دس برس سے آ رہی ہوں۔ ایک مرتبہ مجھے دوسری پوزیشن حاصل ہوئی، حالانکہ جب میری شادی ہوئی تھی، اس وقت مجھے انڈا بھی ابالنا نہیں آتا تھا۔‘

’میں ان مقابلوں میں گزشتہ 14برس سے حصہ لے رہی ہوں۔ میں نے دس برس کی عمر میں ہی پاستا بنانا شروع کر دیا تھا۔ یہ بہت مزے کا کام ہے۔ یہاں کوئی بھی جیتنے کے لئے نہیں آتا، بلکہ کچھ خاص کر دکھانے کے لئے آتا ہے۔ لیکن اگر جیت بھی جائیں، تو اس اچھی کیا بات ہے۔‘

گولڈن رولنگ پِن مقابلے گزشتہ 24 برس سے جاری ہیں۔ ان کا مقصد بولونیا میں گھر پر پاستا بنائے جانے کی روایت کو زندہ رکھنا ہے۔ یہاں انڈے کا پاستا la sfoglia کہلاتا ہے اور پیشہ ورانہ طور پر یہ پاستا بنانے والی خواتین کو بھی sfogline ہی کہا جاتا ہے۔ اس فیسٹول کے روح رواں آندریا ٹیڈیسکی کہتے ہیں کہ طرز زندگی میں تبدیلی اور تیار کھانوں کی دستیابی کے باعث کھانے پینے کے رجحان بھی بدل گئے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہا ہے:

’یہ مخصوص پاستا بنانے کی روایت دیگر علاقوں میں تقریبا ختم ہو چکی ہے، لیکن یہاں آج بھی زندہ ہے۔

Heisse Pizza

اطالوی کھانوں میں ’پیزہ‘ کو بین الاقوامی طور پر بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہے

ان مقابلوں کی بنیاد ٹیڈیسکی نے ہی رکھی تھی اور آج بھی یہ سلسلہ وہی چلا رہے ہیں۔ رواں برس کے مقابلوں میں شریک افراد کی تعداد 300 ہے۔ ٹیڈیسکی مزید کہتے ہیں:

’مجھے اُمید ہے کہ یہ روایت زندہ رہے گی، لیکن ایماندری کی بات تو یہ ہے ان مقابلوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی تعداد ہر سال کم ہو جاتی ہے۔‘

ٹیڈیسکی کے اس اعتراف کے باوجود گولڈن رولنگ پِن مقابلوں میں رواں برس بھی نوجوان شریک ہیں۔ ان میں سے ایک 16سالہ مارگریٹا منارڈی ہیں۔ وہ کہتی ہے:

’میں اس مقابلے میں پہلی مرتبہ آئی ہوں، لیکن گھر میں گزشتہ کچھ برسوں سے پاستا بنا رہی ہوں۔‘

اس مقابلے میں اوّل آنے والے کو، گو کہ خاص انعام سے نوازا جاتا ہے، لیکن ان میں حصہ لینے والے ہر فرد کو ڈپلومہ بھی دیا جاتا ہے، جبکہ جہاں بنائے گئے پاستا بے گھر اور بے سہارا افراد کے کھانے کے لئے بھیج دیے جاتے ہیں۔

رپورٹ : ڈینی مِٹزمان / ندیم گِل

ادارت:  عابد حسین

DW.COM