1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’کھانا نہیں انٹرنیٹ چاہیے‘

یونان پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن کا پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ پانی اور کھانا کہاں سے ملے گا؟ بلکہ وہ یہ پوچھتے ہیں کہ کیا اس علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت ہے اور یہ کہ وہ اپنا فون کیسے چارج کر سکتے ہیں؟

امدادی کارکن آئزک کوامی کا کہنا ہے کہ یونان پہنچنے والے زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں۔ تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو میں انہوں نے کہا، ’’بہت کم مہاجرین کہتے ہیں کہ وہ بھوکے ہیں یا انہیں پانی چاہیے۔ ان کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ یہاں وائی فائی کی سہولت ہے؟ میں اپنا فون کہاں سے چارچ کر سکتا ہوں؟‘‘

DW.COM

آئزک نے رواں برس جون میں یونان میں مہاجر کیمپوں کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی طرف سے انٹرنیٹ کے بارے میں اس طرح دریافت کرنا اب کچھ عجیب بات نہیں ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ان کے سفر کے لیے انتہائی اہم آلہ بن چکی ہے۔

’اگلے سفر کی منصوبہ بندی‘

آئزک کے بقول نہ صرف مہاجرین اپنے سمارٹ فونز پر انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے اگلے سفر کی منصوبہ بندی کرتے ہیں بلکہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے پناہ کی درخواستیں بھی جمع کراتے ہیں۔

اسی طرح یہ مہاجرین اور تارکین وطن انٹرنیٹ کی مدد سے ہی اپنے آبائی ممالک میں موجود اپنے رشتے داروں کو اپنی خیریت سے بھی باخبر کرتے ہیں۔

مہاجرت کے سفر میں اسمارٹ فونز میں واٹس ایپ اور فیس بک ایپس ان افراد کو اپنے عزیزوں سے رابطے میں بہت زیادہ مدد فراہم کر رہے ہیں۔

آئزک نے کہا، ’’ایک مہاجر جو یورپ پہنچنے کی کوشش میں اپنی فیملی سے جدا ہو گیا تھا، اپنی بیٹی سے دو سال تک کوئی رابطہ نہ کر سکا۔ رواں سال ہی وہ فیس بک کے ذریعے دوبارہ اپنی بیٹی سے بات کر سکا۔ انٹر نیٹ نے اس ملاپ میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘

’خصوصی انٹر نیٹ ہاٹ اسپاٹس‘

غیر منافع بخش ٹیکنالوجی کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’نیٹ ہوپ‘ نے یورپ میں ایسے مقامات پر انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب بنائی تھی، جہاں سے مہاجرین گزر کر مختلف یورپی ممالک کی طرف سفر کرتے ہیں۔

اب کئی مقامات پر ایسے وائی فائی ہاٹ اسپاٹس غیر مؤثر کر دیے گئے ہیں، جہاں اب مہاجرین کا گزر ختم ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق یونان کے خشک جغرافیائی علاقوں پر اڑتالیس ہزار مہاجرین محصور ہو چکے ہیں کیونکہ بلقان کی ریاستوں نے یونان سے متصل اپنی سرحدی گزر گاہوں کو بند کر دیا ہے۔

ان مہاجرین میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان، شام اور عراق سے ہے، جو شمالی اور وسطی یورپی ممالک کی طرف جانا چاہتے ہیں۔

’اسکائپ کے ذریعے پری رجسٹریشن‘

یونان کے شیلٹر ہاؤسز میں سکونت پذیر مہاجرین صرف اسکائپ کے ذریعے ہی انٹرویو کی تاریخ طے کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یونان میں پناہ فراہم کرنے والے ادارے نے ویب پر فون کا خصوصی نظام قائم کر رکھا ہے۔

پناہ کا متلاشی کوئی فرد جب انٹرویو کی تاریخ طے کرتا ہے تو اسے نہ صرف یونان میں عارضی طور پر قیام کا قانونی حق مل جاتا ہے بلکہ اسے بنیادی سہولیات تک رسائی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔

اس وقت یونانی دارالحکومت ایتھنز میں رہنے والے مہاجرین ہی اس قابل ہیں کہ وہ بذات خود کسی رجسٹریشن دفتر میں جا کر پناہ کی درخواست جمع کرا سکیں۔ ایتھنز میں اس طرح کے صرف دو رجسٹریشن دفاتر ہی واقع ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ’یو این ایچ سی آر‘ کی یونان میں ترجمان کاترینا کتیڈی کا کہنا ہے اس مخصوص صورتحال نے انٹرنیٹ کی اہمیت زیادہ بنا دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب انٹرنیٹ دراصل معلومات تک رسائی، لوگوں سے روابط اور پناہ کی درخواستوں پر عملدرآمد کا ایک اہم آلہ بن چکا ہے۔

یونان میں مہاجرین کے محصور ہو جانے کے بعد سے ’نیٹ ہوپ‘ نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہاں انٹرنیٹ کی سہولت کو زیادہ بہتر اور تیز رفتار بنا دیا جائے۔ آئزک کے مطابق متوقع طور پر اگست میں مہاجرین کے لیے یہ سہولت زیادہ مؤثر بنا دی جائے گی۔

یونان میں سیو دی چلڈرن کے ترجمان عماد عون کے مطابق یورپ کو درپیش مہاجرین کے اس سنگین بحران میں انٹرنیٹ انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’عمومی طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ ایک عیاشی ہے اور اگر کوئی مہاجر ہے تو اسے اس کی ضرورت نہیں۔ یہ تاثر غلط ہے۔ انہیں بھی تمام حقوق حاصل ہیں۔‘‘

جون میں اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کو منظور کرتے ہوئے آرٹیکل انیس میں ایک ترمیم کی تھی، جس کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی تمام انسانوں کا بنیادی حق قرار دے دیا گیا تھا۔