1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کڑے حفاظتی انتظامات میں بھارت کے یوم آزادی کی تقریبات

بھارت میں یوم آزادی کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی اور دیگر شہروں میں سکیورٹی کے کڑے انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کسی ممکنہ دہشت گردانہ حملے سے بچنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو سخت کرنا بہت ضروی تھا۔

default

بھارت میں آج ملک کا پینسٹھواں یوم آزادی منایا جا رہا ہے۔ روایت کے مطابق نئی دہلی کے لال قلعے میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا، جس میں بدعنوانی کے موضوع کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ ’’ حکومت بدعنوانی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھائےگی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ان معاملات سے دور رہا جائے، جن سے ملک کی ترقی متاثر ہوتی ہے۔

اس دن کی مناسبت سے دار الحکومت نئی دہلی میں لال قلعے کے ارد گرد ہزاروں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے اہلکار تعینات کیے گئے۔ قلعے کے اطراف میں خصوصی کیمرے نصب ہیں اور مختلف مقامات پر نشانہ باز پولیس اہلکار بھی تعینات ہیں۔ بھارتی یوم آزادی کی مرکزی تقریب کا آغاز قومی ترانے اور پرچم کشائی سے ہوا۔ اس دوران فضا میں ہیلی کاپٹر گشت کرتے رہے اور فضائیہ کو بھی چوکنا رہنے کا حکم دیا گیا تھا۔

Indien Independence Day

بھارت بھر بالخصوص حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے

پارلیمنٹ ہاؤس، ہوائی اڈوں، ریلوے اور بس اڈوں پر بھی بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔ اقتصادی مرکز ممبئی میں پولیس کے گشت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہاں حال ہی میں دہشت گردوں نے حملہ کرتے ہوئے 23 افراد کو ہلاک اور 100 سے زائد کو زخمی کر دیا تھا۔ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں بھی سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس ریاست میں ماؤ نواز باغیوں نے عوام سے کہا ہے کہ وہ یوم آزادی کی تقریبات سے دور رہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے بہت سے علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں اور بینرز لگائے ہیں۔

شمال مشرقی بھارت میں باغیوں کے 12 گروپوں نے 17 گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی 15 اگست کے دن غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی علیحٰدگی پسندوں نے یوم آزادی کی تقریبات کا بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM