1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کچھ یورپی شہریوں کو برطانیہ سے نکلنا ہو گا، بریگزٹ وزیر

برطانیہ کے نئے وزیرڈیوڈ ڈیوس، جنہیں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج سے متعلق مذاکرات میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہے، کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد چند یورپی شہریوں کو برطانیہ سے نکالا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز برطانوی اخبار ’دی میل‘ میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں ڈیوس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ میں یورپی یونین کے شہریوں کو کھلے دل کے ساتھ اور یورپی یونین میں برطانوی شہریوں کو کھلے دل کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جانا چاہیے، تاہم ان کے نزدیک بعض یورپی شہری بریگزٹ کے بعد برطانیہ سے نکال دیے جائیں گے۔

انہوں نے ان تجاویز کو مسترد کیا کہ برطانیہ میں موجود قریب تین ملین یورپی شہری بریگزٹ کی صورت میں برطانیہ سے نکال دیے جائیں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں برطانوی حکومت ایک خاص ضابطہ اور ڈیڈلائن نافذ کرے گی۔

برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے کو ان کے اس بیان کے بعد تنقید کا سامنا ہے، جس میں انہوں نے یہ ضمانت دینے سے انکار کیا تھا کہ بریگزٹ کی صورت میں یورپی شہری برطانیہ میں مقیم رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی کہ یورپی یونین میں رہنے والے برطانوی شہریوں کو مکمل حقوق حاصل رہیں۔

Großbritannien Theresa May Downing Street 10

وزیراعظم مے نے اپنی کابینہ میں یورپ مخالف رہنماؤں کو بھی شامل کیا ہے

برطانوی وزیر برائے بریگزٹ نے اتوار کے روز اپنے اخباری بیان میں کہا، ’’ہم یہ کہیں گے کہ یورپی شہریوں کی برطانیہ میں سکونت کا حق ایک خاص تاریخ تک ہی ہو گا۔ مگر ظاہر ہے آپ کو یہ فیصلے افوہوں نہیں بلکہ حقیقت کو مدنظر رکھ کر کرنا پڑتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بریگزٹ کی صورت میں یورپی شہریوں کی برطانیہ میں مستقل سکونت کے حق کی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔

یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس ریفرنڈم کے نتائج منظرِ عام پر آنے کے بعد یورپی یونین نے کہا تھا کہ برطانیہ فوری طور پر لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کو لاگو کرے، تاکہ برطانیہ کی رکنیت کے خاتمے کا عمل جلد از جلد شروع ہو اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کی کیفیت کا خاتمہ ہو۔ اس ریفرنڈم کے بعد برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا، جب کہ ان کے بعد برطانوی وزارت عظمیٰ سابق وزیرداخلہ ٹریزا مے کے حصے میں آئی ہے۔