1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

!!!کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

اخبارات و رسائل میں چھپنے والے یا پردہ سیمیں پر دکھائے جانے والے خاکے اکثر سیاسی و سماجی طنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔

default

اٹھارویں صدی میں برطانیہ اور انیسویں صدی میں جرمنی میں مزاحیہ خاکوں کو سماجی اور سیاسی حالات پر طنز کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ کسی ملک میں کیا ہورہا ہے یہ جاننے کے لیے اخبار کے دوسرے یا تیسرے پنے پر چھپے ہوئے کارٹون کو تھوڑا غور سے دیکھیے حقیقت عیاں ہو جائے گی۔ ان خاکوں میں موجود کردار کسی بھی معاشرے کے سیاسی اور سماجی مسائل کا آئینہ سمجھے جاتے ہیں۔

Karikaturen von iranischer karikaturistin Mahnaz Yazdani zum Thema Mieter 11

سن انیس سو اسی میں آرٹ شپیگل مین کے بنائے گئے خاکوں پر مبنی ناول ’’ماؤس‘‘ نے کارٹون کی دنیا میں جدت پیدا کی۔ اس ناول کے دو ایڈیشنوں میں ہولو کوسٹ پر طنز اور تبصرہ کیا گیاہے۔

مورخین کے مطابق تصویروں کے ذریعے کہانی سنانے کا آغاز قدیم مصر سے ہوا۔ اٹھارویں صدی میں برطانیہ اور انیسویں صدی میں جرمنی میں مزاحیہ خاکوں کو سماجی اور سیاسی حالات پر طنز کرنے کا ذریعہ بنایا گیا۔ امریکی اخبارات میں کارٹون بیسویں صدی کے آغاز میں شائع ہونے شروع ہوئے۔

Iran Zeitung Shargh geschlossen wegen Karikatur

مورخین کے مطابق تصویروں کے ذریعے کہانی سنانے کی شروعات قدیم مصر سے ہوئی۔

سب سے پہلا کامک 1895میں اخبار نیو یارک ورلڈ کے کارٹون پینل میں شائع ہوا تھا۔ اسے Hogans Alley کہا جاتا تھا۔ اس کا ایک کردار پیلا بچہ بہت مشہور تھا۔

سن انیس سو اسی میں آرٹ شپیگل مین کے بنائے گئے خاکوں پر مبنی ناول ’’ماؤس‘‘ نے کارٹون کی دنیا میں جدت پیدا کی۔ اس ناول کے دو والیم میں ہولو کوسٹ پر طنز اور تبصرہ کیا گیاہے۔ اسی ناول کی تخلیق پر آرٹ شپیگل مین کو امریکی صحافت کے سب سے اعلی ایوارڈ Pulitzer Prize سے بھی نوازا گیا۔

Karikaturen von iranischer karikaturistin Mahnaz Yazdani zum Thema Mieter 10

کارٹون تقریباً ایک صدی سے ہمیں ہنسا رہے ہیں مگر ان کا کردار صرف ہنسانے کا نہیں

انسانوں کو جانوروں کے روپ میں پیش کر کے ان کی خصوصیات پیش کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اکیسویں صدی کے اوائل میں مرجان ستراپی کی Persepolis نے بھی مزاحیہ خاکوں کو ایک نئی جہت دی۔اس ناول کے اب تک دہ والیم شائع ہو چکے ہیں۔ یہ کہانی ایک ایرانی لڑکی کی ہے اور ایرانی سماج پر گہرا طنز ہے۔

کارٹون تقریباً ایک صدی سے ہمیں ہنسا رہے ہیں مگر ان کا کردار صرف ہنسانے کا نہیں رہا ۔ اگر ہم غور کریں تو بلیک اینڈ وائٹ کارٹون کے دور سے لے کر سیاسی طنز والے ایڈیٹوریل کارٹونز مثلاً Doonsberry ,Pogo،مہماتی کارٹون سیریز جیسے سپائیڈر مین ،ٹارزن ،بک راجرز ،جبکہ خاندانی زندگی پر مبنی کامکس کے علاوہ Little orphan annie، گارفیلڈ، ٹن ٹن سمیت کئی مقبول عام کارٹون اب تک کئی سماجی سیاسی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے آرہے ہیں۔