کپڑے کی صنعت کے بھارتی ملازمین استحصال کا شکار | معاشرہ | DW | 27.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کپڑے کی صنعت کے بھارتی ملازمین استحصال کا شکار

جنوبی بھارت میں کپڑا بنانے کے ایک کارخانے کی 21 سالہ ملازمہ کی موت،کئی بلین کی ٹیکسٹائل صنعت میں انتہائی کم اجرت پر ملازمت کرنے والوں کی حالت پر انسانی حقوق کے علم برداروں میں تشویش کا باعث بنی ہے۔

بھارتی ریاست اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کی موت چند دن بخار میں مبتلا رہنے کے بعد 14 دسمبر کو واقع ہوگئی۔ وہ بھارتی ریاست تامل ناڈو میں کپڑے کے کارخانوں کا مرکز سمجھے جانے والے شہرتیروپور میں قائم ایک فیکٹری میں انتہائی مشکلات حالات میں نہایت معمولی اجرت پر ملازمت کر رہی تھی۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کی رپورٹ آنے تک موت کی وجہ واضع نہیں ہو سکتی۔

ٹیکسٹائل کی صنعت کے ملازمین کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم، رائٹس ایجوکیشن اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر، اپنی ایک رپورٹ میں کہتی ہے کہ دوسری ریاستوں سے نقل مکانی کر کے آنے والے ملازمین کو مقرر کردہ کم ترین تنخواہ تک ادا نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان کا کہیں اندراج کیا جاتا ہے۔

 

Textilarbeiterin in Indien (AP)

  

بھارت کی جنوبی ریاست کے شہر تیروپور میں نقل مکانی کر کے آنے والے ایسے بڑی تعداد میں فیکٹری ملازمین بھرتی ہیں جو مختلف بین الاقوامی برانڈز کے لیے دن کے چودہ گھنٹے یا اس سے بھی زائد وقت کپڑے سینے یا سُوت کاتنے میں صرف کرتے ہیں۔

کارخانوں میں ملازمت کرنے والوں کی حالت میں بہتری کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق ان کارخانوں میں زیادہ تر مشرقی بھارت سے آنے والے غریب ترین خاندان کام کرتے ہیں ۔ ان کو کارخانوں کے احاطے میں محدود رکھا جاتا ہے۔ انہیں نہایت معمولی اجرت دی جاتی ہے اور اکثر ملازمین کا اندراج بھی کسی کھاتے ہیں نہیں کیا جاتا۔

بھارتی ٹیکسٹائل صنعت میں لاکھوں خواتین جدید غلامی کا شکار

ایک اندازے کے مطابق تامل ناڈو میں 1500 سے زائد کپڑے کے کارخانے ہیں، جن میں چار لاکھ سے زائد افراد ملازم ہیں۔ اس ریاست میں استحصال کے شکار ماحول میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کےکام کرنے سے اجتناب کے باعث نقل مکانی کر کے آنے والوں کو زیادہ سے زیادہ نوکری پر رکھا جا رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق کُل ملازمین کا 20 فیصد، ان ہی افراد پر مشتمل ہے۔ 

DW.COM