1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کپتانی کے لئے ذاتی کارکردگی اہم: شاہد آفریدی

عالمی شہرت یافتہ آل راوٴنڈر صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی سن 2011ءکے عالمی کپ ٹورنامنٹ تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔

default

’بوم بوم‘ آفریدی کہتے ہیں کہ ٹیم کی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام کھلاڑی ذاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر میدان میں کارکردگی دکھائیں۔

ڈوئچے ویلے اُردو سروس کو کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں شاہد آفریدی نے کہا کہ جب انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا، تو اُس وقت انہیں ٹیم میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ آفریدی کرکٹ میچز کی بہتات کے باعث ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے فارمیٹس پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ آرام بھی کرنا چاہتے ہیں۔

288 ون ڈے میچوں میں کئی عالمی ریکارڈز پاش پاش کرنے والے آفریدی اپنے 13سالہ کیریئر میں صرف 26 ٹیسٹ میچ ہی کھیل سکے ہیں۔ اُنہوں نے آخری بار ساڑھے تین سال قبل اولڈ ٹریفرڈ میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیلا ہے۔

شاہد آفریدی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اب کرکٹ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ کچھ آرام کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔’’میں 2011 کے ورلڈ کپ تک ٹیسٹ کرکٹ سے دور رہ کر آرام کرنا چاہتا ہوں۔ لیکن اس کے بعد ٹیسٹ میچز ضرور کھیلوں گا، انشاء اللہ۔‘‘

Cricketspiel England gegen Indien

انگلینڈ ٹیم کے آل راوٴنڈر ٹیسٹ میچوں سے ریٹائر ہوچکے ہیں

اس سوال پر کہ کیا آفریدی اور فلینٹوف جیسے پرکشش آل راوٴنڈرز کی ٹیسٹ میچوں سے کنارہ کشی روایتی طرز کی کرکٹ کے زوال کا باعث تو نہیں بنے گی، ’بوم بوم‘ آفریدی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ کوتیزی سے بدلتی صورتحال میں بھی کوئی خطرہ لاحق نہیں بلکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی وجہ سے ہی اب ٹیسٹ میچز بھی نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔’’نتیجہ آنے سے ٹیسٹ کرکٹ میں لوگوں کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔‘‘

آفریدی نے مزید کہا کہ کھلاڑی کو اپنی باڈی کو فٹ بھی رکھنا پڑتا ہے۔’’سال بھر غیر ملکی دوروں سے کھلاڑی اپنے اہل خانہ سے بھی بچھڑ کر رہ جاتا ہے۔ اب پاکستانی ٹیم تین ماہ کے دورے پر ہے۔ اور میں یہ وقت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔‘‘

ماضی قریب میں کرکٹ کی سپر پاور سمجھی جانے والی پاکستانی ٹیم نے گز شتہ تین برس میں کوئی ٹیسٹ سیریز نہیں جیتی ہے جبکہ رواں سال اسے ہر ون ڈے سیریز میں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ لیکن ان حقائق کے باوجود آفریدی اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہیں کہ ’گرین شرٹس‘ صرف ٹی ٹوئنٹی کے اُفق پر ہی حکمرانی کر سکتے ہیں۔’’ہم آج بھی ون ڈے اور ٹیسٹ کی زبردست ٹیم ہیں تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنے آپسی معاملات اور اختلافات سے بالاتر ہوکر صرف اپنے ملک کے لئے سوچنا چاہیے اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہوگا۔ دوسروں پر انگلی اٹھانا آسان ہے مگر اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ میں نے کبھی الزام تراشی نہیں کی، ہمیشہ یہ سوچتا ہوں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔‘‘

BdT Pakistan Cricket Younis Khan

یونس خان نے قومی کرکٹ بورڈ سے نیوزی لینڈ سیریز کے لئے آرام کی درخواست کی، جسے قبول کیا گیا

ورلڈ کپ دو ہزار گیارہ کی تیاریوں سے متعلق ایک سوال پر آفریدی نے اعتراف کیا کہ ٹیم کے موجودہ حالات سو فی صد صحیح نہیں ہیں۔

آوٴٹ آف فارم یونس خان پر ساتھی کھلاڑیوں کے مبینہ عدم اعتماد کے بعد شاہد آفریدی کوٹئی ٹوئنٹی کے علاوہ اب ون ڈے ٹیم کا بھی کپتان بنائے جانے کا قوی امکان ہے۔ آفریدی کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان ٹیم اب تک چار میچوں میں ناقابل شکست رہی ہے۔

اس سوال پر کہ وہ اپنی قیادت میں منتشر اور بکھری ہوئی پاکستانی ٹیم کو اچانک کیسے متحد کرلیتے ہیں، آفریدی نے کہا کہ اُن کے پاس کوئی خاص نسخہ تو نہیں ہے لیکن وہ کسی ایک کھلاڑی کے ساتھ دوستی کی بجائے تمام کھلاڑیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔’’سب کے ساتھ بھائیوں اور دوستوں جیسا سلوک کرتا ہوں۔ عزت آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ میں نے کبھی اپنے کسی ساتھی کے ساتھ بد تمیزی نہیں کی۔ تمام لڑکوں سے صاف طور پر کہتا ہوں کہ میں صرف گراوٴنڈ پر آپ کا کپتان ہوں۔ میدان کے باہر ہم سب ایک دوسرے کے دوست ہیں، اسلئے سب میری عزت کرتے ہیں۔‘‘

Pakistanischer Cricketspieler Wasim Akram

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سوئنگ بولنگ کے سلطان وسیم اکرم بولر عمر گُل کو سمجھاتے ہوئے

آفریدی نے کہا کہ وہ کھلاڑیوں کو ملک کی بدحال صورتحال سے بھی باور کراتے ہیں۔’’اس وقت خوشیوں کو ترسے ہوئے ہم وطنوں کو فتح کی کتنی ضرورت ہے۔ سب سے بڑھ کر میں خود میدان میں جان مارتا ہوں کیونکہ اولین ذمہ داری میری ہے۔ اگر میں جان نہیں ماروں گا، تو دوسرے بھی ایسا نہیں کریں گے۔‘‘

شاہد نے سوئنگ بولنگ کے سلطان وسیم اکرم اور انضمام الحق کو اپنے دور کے بہترین کپتان قراردیا۔’’وسیم بھائی کی کپتانی میں مزہ آتا تھا۔ انضی بھائی نے کھلاڑیوں کو متحد رکھا اور ڈریسنگ روم کا ماحول مثالی ہوا کرتا تھا۔ وسیم اکرم کی قیادت میں مجھے بہت مزہ آیا ہے۔‘‘

آفریدی نے پاکستانی کھلاڑیوں کے آئے روز کے تنازعات میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ملکی میڈیا کو ٹھہرایا تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کو بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ پاکستانی میڈیا کے بارے میں آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’بریکنگ نیوز کے چکر میں میڈیا میں ایسی خبریں شائع اور نشر ہوتی ہیں، جن میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی ہے۔’’میں گز شتہ کئی روز سے کراچی میں ہوں اور ایسی ایسی خبریں پڑھ رہا ہوں، جن کا کوئی سر پیر بھی نہیں ہے۔ اخبار کا پیٹ بھرنے کے لئے ایسی خبریں شائع کی جاتی ہیں۔ بعض پاکستانی صحافی ہمارے بارے میں من گھڑت خبریں ہمسایہ ملک تک پہنچاتے ہیں، جس سے ہمارے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔ میڈیا کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔‘‘
شاہد آفریدی نے سچن تندولکر، رکّی پونٹنگ اور محمد یوسف کو عہد حاضر کے تین سب سے بڑے بیٹسمین قرار دیا اورکہا کہ ان تینوں کا کھیل، کارکردگی اور انداز منفرد ہے۔ شاہد آفریدی نوجوان بولر محمد عامر، یووراج سنگھ، مہیندر سنگھ دھونی اور گوتم گمبھیر کے کھیل سے بھی متاثر ہیں۔

محض 37 گیندوں میں سنچری بنانے والے آفریدی نے حال ہی میں ذمہ داری سے بیٹنگ کرکے اپنے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے آفریدی نے مُسکراتے ہوئے کہا:’’مجھ میں کوئی ڈرامائی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ بزُرگ کہتے ہیں کہ 30 سال کی عمر کے بعد ہی اصل بیٹسمین بنتا ہے۔ میں بھی جلد تیس سال کا ہو رہا ہوں، شاید اسی لئے!‘‘

رپورٹ: طارق سعید، کراچی

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM