1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

کپتانی سے متعلق بیان پر وقار سے وضاحت طلب

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے کوچ وقار یونس سے وضاحت طلب کی ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے کپتان کی نامزدگی سے متعلق جو بیان انہوں نے دیا تھا اس کا کیا مطلب تھا؟

default

پی سی بی کے میڈیا منیجر ندیم سرور کے بقول وقار ایک معاہدے کے تحت کرکٹ بورڈ سے جُڑے ہیں، جس کی بنیاد پر وہ بعض شرائط کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے وقار کو ایک نوٹس بھیجا ہے، جس میں ان سے یہ دریافت کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کریں۔‘

وقار یونس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بہتر ہوتا اگر سلیکٹرز ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا اعلان کرتے وقت کپتان کے نام کا اعلان بھی کردیتے۔ کہا جارہا ہے کہ فی الحال کپتان کے نام کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا کیونکہ سلیکٹرز نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں موجودہ کپتان شاہد آفریدی کی کارکردگی جانچنا چاہتے ہیں۔

Shahid Afridi

آفریدی کہہ چکے ہیں کہ کپتانی ان کے نزدیک اہم نہیں

خیال کیا جارہا ہے کہ وقار شاہد آفریدی کو ہی ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مصباح الحق کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں جنہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ایک روزہ سیریز کے پہلے مقابلے میں عبرتناک شکست کے بعد آفریدی پر اب مزید انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ بعض سابق کرکٹرز پر زور انداز میں یہ مطالبہ کرنے لگے ہیں کہ ورلڈ کپ کے لیے کپتانی شاہد آفریدی کو نہ دی جائے۔ ان کھلاڑیوں میں ظہیر عباس، سرفراز نواز، عامر سہیل اور عبد القادر نمایاں ہیں۔

Misbah ul Haq

کپتانی کے مضبوط امیدوار مصباح الحق

نیوزی لینڈ روانگی سے قبل ایک انٹرویو میں خود آفریدی بھی اس حقیقت سے بظاہر آگاہ دکھائی دیے کہ ان کی کارکردگی سے لوگ خوش نہیں۔ آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، جس کے لیے کپتانی اہم نہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر عبد القادر، آفریدی کی قیادت کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی کارکردگی سے بھی ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ’ایک کپتان جو خود مثالی کارکردگی نہیں دکھا پارہا، وہ کیسے اپنے کھلاڑیوں سے یہ خواہش رکھ سکتا ہے کہ وہ اچھا کھیلیں۔‘

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : ندیم گِل

DW.COM