1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’کِيلے جنگل‘ ميں پناہ گزينوں کے مابين جھگڑا، چاليس زخمی

فرانسيسی استغاثہ کی جانب سے کہا گيا ہے کہ ملک کے شمالی حصے ميں ’ کيلے جنگل‘ کے نام سے مشہور مہاجر بستی ميں مہاجرين کے مختلف گروپوں کے درميان ہونے والے تصادم کی تحقيقات شروع کر دی گئی ہيں۔

شمالی فرانس ميں کيلے کے مقام پر قائم مہاجر بستی ميں افغان اور سوڈانی پناہ گزينوں کے درميان ہونے والے جھگڑے ميں کم از کم چاليس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہيں۔ زخميوں ميں ايک خاتون امدادی کارکن بھی شامل ہے، جس کی حالت کافی نازک بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقريباً دو سو افغان اور سوڈانی مہاجرين کے درميان يہ جھگڑا جمعرات کے روز ہوا تاہم ذرائع ابلاغ پر اس کی خبريں جمعے کے روز سامنے آئيں۔

مقامی خاتون اہلکار فابين بوکيو کے مطابق تين زخميوں کی حالت نازک ہے، جن ميں ايک ايسا شخص بھی شامل ہے، جس پر چاقو سے وار کيا گيا۔ تاہم بوکيو نے ايسی خبروں کو مسترد کر ديا کہ کسی کو گولی بھی لگی تھی۔

يہ وسيع تر جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب کيمپ ميں قائم جولز فيری نامی امدادی مرکز پر کھانا تقسيم کيا جا رہا تھا تاہم تاحال يہ واضح نہيں ہو سکا ہے کہ جھگڑا شروع ہونے کی وجہ کيا تھی۔ مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ زخميوں ميں دو پوليس اہلکار اور مجموعی طور پر امدادی گروپ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد بھی شامل ہيں۔

جھگڑا رکوانے کے ليے ڈھائی سو سے زائد پوليس اہلکار، ستر فائر فائٹرز اور گيارہ ايمبولينسز کو طلب کيا گيا تھا۔ يہ امر اہم ہے کہ کيلے کے اس مہاجر کيمپ ميں چار سے پانچ ہزار مہاجرين قيام پذير ہيں۔ يہ تارکين وطن ايسی اميديں لگائے بيٹھے ہيں کہ وہ کسی نہ کسی طرح ٹرکوں کے ذريعے برطانيہ پہنچ جائیں۔

ملتے جلتے مندرجات