1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کِم یونگ اِل نے بیٹے کو جنرل نامزد کر دیا

شمالی کوریا کے رہنما کِم یونگ اِل نے اپنے بیٹے کِم یونگ اُن کو جنرل مقرر کر دیا ہے۔ یہ تقرری وہاں حکمران جماعت کے اجلاس کے موقع پر سامنے آئی ہے، جو گزشتہ کچھ دہائیوں میں اپنی نوعیت کی پہلی نشست ہے۔

default

شمالی کوریا کے رہنما کِم یونگ اِل

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کِم یونگ اُن کو جنرل مقرر کئے جانے کی تصدیق کی ہے، جو ان قیاس آرائیوں کے درمیان عمل آئی ہے کہ 68 سالہ کِم یونگ اِل اپنے بیٹے کو اپنا جانشیں مقرر کرتے ہوئے ملکی قیادت پر اپنے خاندان کا اختیار مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

شمالی کوریا کی حکمران جماعت ’ورکرز پارٹی‘ کا اجلاس منگل کو شروع ہو رہا ہے، جس کا مقصد نئی قیادت کا انتخاب بتایا جاتا ہے۔ پیونگ یانگ کے سرکاری خبررساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق کِم یونگ اُن کی بہن کیونگ ہوَئی کو بھی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ میں جگہ جگہ پلے کارڈز اور پرچم لگائے گئے، جن کے ذریعے ورکرز پارٹی کے اجلاس کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکمران جماعت کے وفود پیر کو کمِ یونگ اِل کے والد اور شمالی کوریا کے بانی کِم اِل سنگ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دارالحکومت میں کم سوسان میموریل پیلس بھی پہنچے۔ کِم اِل سنگ کو ملک کا تاحیات صدر قرار دیا جاتا ہے جبکہ کِم یونگ اِل کو عزیز رہنما کہا جاتا ہے۔

Nordkorea Kim Il Sung und Kim Jong Il auf Sportplatz 1992

شمالی کوریا کے سابق رہنما کم یونگ سنگ اوران کے بیٹے کم یونگ ال

قبل ازیں ورکرز پارٹی کا بڑا اجلاس 1980ء میں ہوا تھا، جو کم یونگ اِل کے اقتدار کا آغاز تھا۔ اس وقت انہیں متعدد عہدے سونپے گئے تھے جبکہ 1994ء میں اپنے والد کے انتقال پر وہ ملک کے رہنما بن گئے۔

کِم یونگ اُن نے سوئٹزرلینڈ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو بھی ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں جبکہ ان کی عمر 25 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ برس سے یہ افواہیں عام ہیں کہ کِم یونگ اِل، کِم یونگ اُن کو ہی اپنا جانشیں بنانے والے ہیں۔

کِم یونگ اِل کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ مختلف امراض کے شکار ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دو سال قبل انہیں فالج کا حملہ ہوا تھا جبکہ متعدد مرتبہ وہ علاج کے لئے چین جا چکے ہیں تاہم بیجنگ یا پیونگ یانگ حکام میں سے کسی نے کِم یانگ اِل کی صحت سے متعلق کبھی کوئی بیان نہیں دیا۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM