1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کِم یونگ اِل، لی میون بک سے کسی بھی وقت ملاقات پر تیار ہیں، جمی کارٹر

سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے حکمران کِم یونگ اِل بات چیت کے لیے جنوبی کوریا کے صدر لی میون بک سے کسی بھی وقت ملنے کو تیار ہیں۔

جمی کارٹر

جمی کارٹر

یہ بات سابق امریکی صدر نے تین روزہ دورہ شمالی کوریا کے بعد سیول پہنچنے پر آج 28 اپریل جمعرات کے روز کہی ہے۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے Yonhap نے جمی کارٹر کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں کوریائی ہمسائے تمام معاملات مذاکرات کی میز پر لانے کو تیار ہیں۔ جمی کارٹر کے مطابق پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام سمیت دیگر فوجی معاملات پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ دورہ پیانگ یانگ کے دوران جمی کارٹر شمالی کوریا کے حکمران کم یونگ اِل سے نہیں ملے۔

86 سالہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر شمالی کوریا کی دعوت پر منگل 26 اپریل کو پیانگ یانگ پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ فِن لینڈ کے سابق صدر Martti Ahtisaari، ناروے کی سابق وزیراعظم Gro Brundtland اور آئرلینڈ کی سابق صدر Mary Robinson بھی ہیں۔

Südkorea Insel Yeonpyeong Beschuss durch Nordkorea Flash-Galerie

نومبر2010ء میں شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر بمباری کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں

سابق امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کے دورے کا مقصد شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوشش ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے ایک جزیرے پر بمباری کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ جنوبی کوریا کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات سے قبل شمالی کوریا اس بمباری پر معافی مانگے۔

شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے چھ ممالک پر مشتمل گروپ کے مذاکرات دسمبر 2008ء سے تعطل کا شکار ہیں۔ شمالی کوریا نے ان مذاکرات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ امریکہ کی کوشش ہے کہ پیانگ یانگ کو مذاکرات پر دوبارہ آمادہ کیا جا ئے۔

شمالی کوریا میں غذا کی قلت بھی کارٹر کے دورہ کوریا کا ایک اہم موضوع ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق شمالی کوریا میں ساٹھ لاکھ کے قریب افراد، یعنی آبادی کے ایک چوتھائی حصے کو غذا کی قلت کا سامنا ہے اور اس حوالے سے فوری اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: مقبول ملک

DW.COM